کلیان: مہاراشٹر میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی مہاوترن (Mahavitaran) کے مبینہ ناقص انتظام اور عوامی مسائل کے خلاف شیوسینا نے کلیان میں جارحانہ احتجاج کیا۔ اسمارٹ میٹر کی لازمی تنصیب، بجلی نرخوں میں اضافہ اور بار بار منقطع ہونے والی بجلی کے خلاف شیوسینا کارکنان سڑکوں پر اتر آئے۔
اس سلسلے میں شیوسینا کی جانب سے کلیان میں واقع مہاوترن کے تیج شری دفتر پر ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس میں بڑی تعداد میں شیوسینکوں اور خواتین کارکنان نے شرکت کی۔
احتجاج کے دوران شیوسینا کی خواتین کارکنان نے مہاوترن کے افسران پر چوڑیاں پھینک کر اپنا شدید احتجاج درج کرایا۔ اس موقع پر اسمارٹ میٹر کی جبری تنصیب، بجلی کے بڑھتے نرخوں اور شہریوں کو درپیش بجلی سپلائی کے مسائل پر افسران سے جواب طلبی بھی کی گئی۔
شیوسینا عہدیداروں نے الزام عائد کیا کہ مہاوترن کی غلط پالیسیوں کے باعث عام شہریوں کو مالی اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ اسمارٹ میٹر کی لازمی تنصیب کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
دریں اثنا، احتجاج کے باعث کچھ دیر کے لیے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا، تاہم پولیس کی موجودگی میں صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔
شیوسینا رہنماؤں نے خبردار کیا کہ عوامی مسائل کے حل تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور شہریوں کے حقوق کے لیے آئندہ بھی بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔