ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہا کہ مذاکرات کے معاملے میں ایران کے ایک بااختیار ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری ہی ’بنیادی معیار‘ ہے اور آخری فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ہوتا ہے۔‘ اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ’ہم ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے کے انتہائی قریب ہیں۔‘
ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی کونسل کا انتباہ: بیروت پر اسرائیلی حملے کا ’جواب آئے گا‘,غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی کی سینیئر رپورٹر
ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ’مجاہدینِ اسلام کا ردِعمل آنے والا ہے۔‘
ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے محمد باقر ذوالقدر نے لبنان کو ایران کی ’شہ رگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی سرخ لکیر کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جاری جنگ کا خاتمہ شامل ہونا ضروری ہے۔
سات سے آٹھ جون کے درمیان ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے پر کیے گئے حملے، جو جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی کشیدگی سمجھے جا رہے ہیں، آٹھ اپریل سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں پیش آئے۔
ابتدائی طور پر پاسدارانِ انقلاب نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں، جس کے بعد اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنا کر جوابی حملہ کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دفاع کیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ان کے حالیہ بیان کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ’قومی مفادات کا دفاع کرنا اور مذاکرات کے دائرہ کار میں ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا صرف حکومت کا طریقۂ کار نہیں ہے، بلکہ نظام کے تمام عناصر اس حوالے سے ایک مشترکہ وژن اور مقصد رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے معاملے میں ایران کے ایک بااختیار ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری ہی ’بنیادی معیار‘ ہے۔‘ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے آخری فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ہوتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے اوائل میں اپنے والد کے بعد قیادت سنبھالنے کے بعد سے اب تک کسی مصدقہ حالیہ تصویر یا ویڈیو میں نظر نہیں آئے۔
اب تک ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان سے منسوب کئی تحریری پیغامات جاری کیے ہیں۔