महाराष्ट्र वक्फ बोर्डाचा अजब कारभार..फी ब ाबत डी डी ची सक्ती… अर्जदारांची फरफट..

اسٹیٹ وقف بورڈ اورنگ آباد میں فیس ادائيگی کے لئے بنک ڈیمانڈ ڈرافٹ کا بیجا لزوم.. ڈی ڈی کی دستیابی میں دشواریاں.. بورڈ میں ہی کیاش کاونٹر کھولنے کا مطالبہ… لاتور(محمدمسلم کبیر)مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ اپنی کج کامی ،اور چال ڈھکیل کے لئے مشہور ہے.جہاں وقف شدہ جائداد کے اندراج، انتظامیہ کمیٹیوں کی منظوری،اور دیگر معمولی کاموں کے لئے درخواست گذاروں کو برسہا برس تک "اورنگ آباد پن چکی"کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں.جب تک درخواست گذار اپنے درخواست پر کیا کاروائی ہوئی اس کی تحقیق کرنے کے لئے وقف بورڈ نہیں پہنچتا تب تک وہاں سے کوئی خط و کتابت بھی نہیں ہوتی. اس کے لئے یا تو اسٹاف کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے یا پھر عمومی طور پر " اگر آپ کا کام ہے تو آپ ہی کو یہاں آنا پڑتا ہے" کہہ کر ٹال مٹول کیا جاتا ہے.ضلعی وقف آفیسر تو دفتری کاموں سے قطعی دلچسپ نہیں ہیں.وہ تو ہر کام کو اورنگ آباد سے ہی نہیں ہوا ہم کیا کریں کہہ کر اپنا راستہ اختیار کرتے ہیں. پن چکی مرکزی دفتر کا فون کوئی ریسیو نہیں کرتا اگر بالفرض فون اٹھا لے بھی تو بے تکی بات کر کے فوری رکھ دیا جاتا ہے. لہذہ ریاست بھر کے درخواست گذاروں کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.
پھر ایسی حالت میں ایک اور مسئلہ وقف بورڈ کے اکاونٹنٹ نے پیدا کیا ہے کہ مختلف کاموں کے لئے متعینہ فیس کی ادائيگی بنک ڈیمانڈ ڈرافٹس کے ذریعے ہی قبول کی جائیگی. اس تعلق سے انھوں نے کہا کہ یہ احکام بورڈ کے اعلی حکام انیس شیخ نے دئے ہیں. اب یہاں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے درخواست گذار(جنھیں پہلے تو فیس کی اطلاع نہیں ہوتی کہ کس کام کے لئے کتنی فیس درکار ہے) ڈی ڈی نکالنے کے لئے بنک پہنچتے ہیں تو بنک نے ڈی ڈی مہیا کروانے کے لئے اپنے نظم و ضوابط بنائے ہیں جس کے تحت ڈی ڈی فی الفور دستیاب نہیں ہو سکتا. ایسی حالت میں درخواست گذار جو اپنے مقام سے ایک روز کے لئے نکلتا ہے اور معاشی حالت کیا ہوتی ہے پتہ نہیں لاچار ومجبور اس کو اورنگ آباد شہر میں مقام کرنا پڑتا ہے.تب کہیں جاکر اس کے کام کا ٹھکانہ لگتا ہے.وہ بھی اگر وہاں ذمہ داران موجود ہوں تو ورنہ خالی ہاتھ واپس ہونا پڑتا ہے.
وقف بورڈ کے سی ای او جناب انیس شیخ سے درخواست گذاروں کا مطالبہ ہے کہ وقف بورڈ میں ہی ایک کیاش کاونٹر کھول کر فیس کی رقم قبول کریں اور عوام کو ہراساں نہ کریں.چونکہ اکثر وقف بورڈ میں ضعیف حضرات ہی اپنے وقف املاک کے تعلق سے پیروی کرتے نظر آتے ہیں. اس لئے اس تجويز پر فوری غور و خوص کیا جائے.

Md.Muslim Kabir,
Latur Distt. Reporter
09175978903/8208435414

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading