یہ فٹنس پروگرام ہے یا فحاشی؟ کیرالہ میں ’زومبا ڈانس‘ پر مسلم تنظیموں نے اٹھایا سوال

کیرالہ کے سرکاری اسکولوں میں طلبا کے لیے ’زومبا ڈانس‘ پروگرام شروع کرنے کے معاملہ نے تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دراصل ’زومبا ڈانس‘ پر مبنی فٹنس پروگرام کا مقصد طلبا کی جسمانی و ذہنی تندرستی کو فروغ دینا ہے۔ یہ قدم انسداد منشیات کی مہم کا ایک حصہ ہے، جس سے طلبا میں مثبت توانائی، نظم و ضبط اور فٹنس کے تئیں بیداری پیدا ہو سکے۔ حالانکہ ’زومبا ڈانس‘ شروع کرنے کے حکومت کے اس فیصلے پر کچھ مسلم تنظیموں نے سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے کم کپڑے پہن کر لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک ساتھ ڈانس کرنے پر اعتراض کیا ہے۔واضح ہو کہ کیرالہ کے کئی سرکاری اسکولوں نے رواں تعلیمی سال سے زومبا ٹریننگ دینا شروع کر دیا ہے۔ وزڈم اسلامک ا?رگنائزیشن کے جنرل سکریٹری ٹی کے اشرف نے اس سلسلے میں اپنا عدم اتفاق ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی اشرف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر کیے گئے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”میرا بیٹا اس میں حصہ نہیں لے گا، میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔“ دوسری جانب مسلم تنظیم ’سمستا‘ کے رہنما ناصر فیضی نے کیرالہ کے سرکاری اسکولوں میں ’زومبا ڈانس‘ کرائے جانے کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے شخصی ا?زادی کی خلاف ورزی اور جسمانی فٹنس کے نام پر فحاشی کو مسلط کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ناصر فیضی نے اس تعلق سے مزید کہا کہ ”زومبا ڈانس ایک ایسا طریقہ ہے جس میں کم کپڑے پہن کر ساتھ میں ڈانس کیا جاتا ہے، اگر حکومت نے بڑے بچوں کے لیے بھی ایسا کوئی حکم جاری کیا ہے تو یہ قابل اعتراض ہے۔ یہ کچھ طلبا کی اخلاقی، ذاتی ا?زادی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے اس قدم کو فحاشی کو فروغ دینا والا قررا دیا ہے۔ دوسری جانب ریاستی وزیر تعلیم وی شیون ک±ٹی نے زومبا کا دفاع کرتے ہوئے ’فیس بک‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مسلم طلبا بھی زومبا میں حصہ لیتے ہوئے نظر ا? رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”بچوں کو کھیلنے، ہنسنے، مستی کرنے اور صحت مند رہنے دیں۔“

قابل ذکر ہے کہ محکمہ تعلیم نے زومبا ڈانس کے تعلق سے کہا تھا کہ ”زومبا سیشن شروع کرنے کا مقصد رضاکارانہ تھا، جس کو شروع کرنے کا مقصد طلبا کو تعلیمی دباو سے راحت دینا، نشے کی عادت کو روکنا اور ذہنی و جسمانی صحت کو بہتر بنانا تھا۔“ زومبا کو وزارت تعلیم نے طلبا کے ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک رضاکارانہ سرگرمی قرار دیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading