خبروں کے مطابق 28 اگست کو چیف سکریٹری کی میٹنگ میں ہوم گارڈس کی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب تک 40 ہزار ہوم گارڈس کی ڈیوٹی ختم کی جا چکی ہے۔ یہی نہیں، نئے فیصلے کے مطابق اب ہوم گارڈس کو 25 دن کی جگہ صرف 15 دن کی ہی ڈیوٹی ملے گی۔
اتر پردیش میں 90 ہزار سے زیادہ ہوم گارڈس ہیں۔ یوگی حکومت میں کابینہ وزیر شری کانت شرما نے بتایا کہ ہوم گارڈ محکمہ کے لیے الاٹ بجٹ اس مرتبہ نہیں بڑھایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اسے بڑھانے کے لیے حکومت قدم اٹھائے گی۔
اس سے قبل جولائی کے مہینے میں سپریم کورٹ نے ہوم گارڈس کو کانسٹیبل کے برابر کم از کم تنخواہ دینے کا حکم دیا تھا۔ ہوم گارڈوں کے حق میں اس سے پہلے یہی فیصلہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بھی دیا تھا جسے اتر پردیش کی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ہوم گارڈس کے حق میں فیصلہ سنایا تھا، اور یو پی حکومت کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی حکومت کو دسمبر 2016 سے بھتہ دینے اور 8 ہفتہ کے اندر اس سلسلے میں حکم جاری کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ہوم گارڈس کو مستقل کرنے سے منع کر دیا تھا۔ لیکن عدالت نے کہا تھا کہ مستقل کام کرنے والے ہوم گارڈوں کو کانسٹیبل کے یکساں کم از کم بھتہ ملنا ہی چاہیے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
