ناندیڑ: 21جون ( شیخ اکرم) اسلام میں انسانوں کی آسانی کے لئے وسعت و کشادگی رکھی گئی ہے اور انسانوں پر ایسی بے جا پابندیاں عائد نہیں کی گئیں جنہیں انسانی فطرت قبول نہ کرتی ہو۔ اسلام نے ہر اُس کام کی اجازت دی ہے جو انسان کی صحت و تندرستی پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سارے کھیل جیسے تیراکی، گھوڑ سواری، کشتی، کرکٹ، فٹبال وغیرہ بھی جائز ہیں بشرطیکہ اُس میں کوئی خلاف شرع کام نہ کیا جائے۔ شریعت نے ایک حدود متعین کی ہے۔ ان حدود کے اندر رہتے ہوئے انسان ہر چیز سے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا سید آصف صاحب ندوی ( صدر جمعیت علماءناندیڑ) نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل کیا۔ ندوی صاحب نے کہا کہ ملک عزیز میں مسلمانوں کو اُن کے ایمان و عقیدے سے ہٹانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کو براہِ راست طور پر اُن کے ایمان و عقیدے سے ہٹانا ممکن نہیں اس لئے بالراست طور پر ایسی کوششیں جاری ہیں جس میں یوگا کو لازمی کرنا بھی شامل ہے۔ یوگا یہ لفظ یوگ سے بنا ہے جس کا مطلب اکٹھا ہونے یا ملنے کے ہیں اور آتما، پرماتما اور شریر کے مربوط ہونے کا نام ہے۔ اسے مختلف آسنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں شروعات سوریہ نمسکار سے ہوتی ہے۔ اس میں سوریہ نمسکار ہی سب سے اہم آسن ہے جس کا وقت طلوع آفتاب یا ، غروب آفتاب یا پھر نصف النہار کے وقت ہوتا ہے۔ چونکہ یوگا کا ذکر ہندومذہب کی کتابوں میں خاص طور پر کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوگا ایک خاص طریقہ عبادت ہے نہ کہ کوئی ورزش کا عمل۔ یہ ہندو تہذیب کا حصہ ہے۔ تہذیب سوچ و فکر، نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ جب فکر و نظر، عقیدہ و ایمان کمزور پڑ جاتا ہے تو تہذیب بھی کمزور پڑتی ہے۔ مسلمان اسلامی تہذیب سے کسی بھی قیمت پر دستبردار نہیں ہوسکتے۔ ندوی صاحب نے مزید کہا کہ طلوع و غروب آفتاب اور نصف النہار کے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی بھی اجازت مسلمانوں کو نہیں ہے یعنی وہ اپنی نماز و سجدہ بھی ان اوقات میں نہیں کرسکتے تو سورج کو نمن کیسے کرسکتے ہیں۔ طلوع، غروب اور نصف النہار کے اوقات میں نماز تک پڑھنے سے حضرت محمد ﷺ نے روکا۔ یوگا میں سوریہ نمسکار ہی اس کا اہم جز ہے۔ یوگا کی جڑیں شرک سے جاملتی ہیں اور شرک اتنا بڑا ظلم عظیم ہے کہ اُس کی معافی نہیں ہے اور جو شخص زندگی میں ایک بار بھی رائی کے دانہ کے برابر بھی شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دے گا۔ ندوی صاحب نے کہا کہ مسلمان اپنے ایمان و عقیدے اور تہذیب کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریںاور نئی نسل میں شعور بیداری کریں۔ واضح رہے کہ یہ مسئلہ موضوع بحث و تنقید بن کر اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب شہر کے ایک تعلیمی ادارہ کے ” بڑے سر“ نے اسکول کا بڑا نام کرنے کے لئے خود کی بیوی کو گھر پر چھوڑ کر مسلم طالبات کو رام دیو بابا کا استقبال کرنے کے لئے دھوپ کے عالم میں روڈ ڈِوائیڈر پر بٹھاکر گھنٹوں انتظار کروایا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر اسکول انتظامیہ پر سخت تنقید کی جانے لگی اور ” بڑے سر“ کو سرعام طلبہ و اولیائے طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔