ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کا قدیم رشتہ ہے، جسے کوئی بدل نہیں سکتا!

ہندوستان کا پہلا انسان مسلمان اور پہلا مذہب اسلام ہی ہے:شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

بنگلور، 29/ اکتوبر (محمد فرقان): ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس سے قلبی محبت ہوتی ہے، اور یہ اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے یہ مقدس و متبرک مقامات ہیں اور اس کا تعلق دین و اسلام سے ہے۔ اسکے علاوہ اگر وہ کسی مقام سے محبت کرتا ہے تو وہ اسکا اپنا وطن ہے۔ کیونکہ کہ حب الوطنی آقائے دوعالم ﷺکی سنت ہے۔ نیز یہ کہ مقامات مقدسہ کی محبت وعظمت وطن کی محبت کے مغائر نہیں، جس طرح ماں باپ کی محبت، اولاد کی محبت کے مغائر نہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مسجد طٰہٰ، ڈی جے ہلی، بنگلور میں ہزاروں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے فرمایا۔

شاہ ملت نے فرمایا کہ وطن سے محبت، اپنے ملک و سرزمین سے قلبی لگاؤ اور دیرینہ تعلق فطری امر ہے۔ دین اسلام وطن کی محبت، شوکت اور اس سے وفاداری کا سبق دیتا ہے۔ نبیؐ کو اپنے وطن مکہ اور مدینہ سے بے پناہ محبت تھی، اسکے تحفظ اور حفاظت کی خاطر آپ ہمیشہ کوششیں کیا کرتے تھے۔ انہیں کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنا لہو بہایا ہے اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ دشمن سے نبرد آزما رہے، برطانوی سامراج کو ختم کرنے میں پہل کی اور ان کے خاتمہ تک جدو جہد جاری رکھی اور ملک کو آزاد کرایا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اس کے علاوہ ہندوستان سے اسلام کا قدیم رشتہ ہے۔ یہی وہ سرزمین تھی جہاں مخلوق انسانی کا پہلا فرد حضرت آدم علیہ السلام آئے، جو نہ صرف مسلمان تھے بلکہ پیغمبر اسلام تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس ملک کی سرزمین کا پہلا مذہب فقط اسلام ہے اور یہ بات اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہے کہ اسلام کہیں دوسری جگہ سے یہاں آیا ہے!

مولانا نے بتایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اس سرزمین پر جنت کے پھلوں کے ساتھ اترے، پوری کائنات میں اندھیروں کی تارکی تھی، چالیس دن اللہ سے فریاد کے بعد اللہ نے حضور ﷺ کے نور کی ایک کرن کو انکی پیشانی پر رکھا تو پوری کائنات روشن ہوگئی اور انہوں نے شکریہ کے طور پر فجر کی پہلی نماز ادا کی اور اس ہند کی سرزمین پر پہلا سجدہ کیا اور اس سرزمین نے انکی پیشانی کا بوسہ لیا، جس پر حضور ؐ کے نور کی کرن تھی۔ اس طرح اس کائنات کی پہلی اذان اور نماز بھی ہند کی سرزمین میں ہوئی۔اسلام کے دوسرے پیغمبر حضرت شیث علیہ السلام اس ملک ہند میں پیدا ہوئے اور آج بھی انکی مزا یوپی کے ایودھیا شہر میں واقع ہے۔مولانا نے مزید بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر رُکی تھی اور ہندوستان کی ریاست یوپی کے شہر فیض آباد کی پہاڑیوں میں آج بھی جودی نام سے ایک پہاڑ موجود ہے۔ مولانا نے دوٹوک فرمایا کہ گھر واپسی کے نعرے لگانے والے فرقہ پرست عناصر سن لیں کہ گھر واپسی اگر کرنا ہے تو اسلام کی طرف کرو کیونکہ کہ اس کائنات اور اس ملک ہند کا پہلا انسان مسلمان تھا اور پہلا مذہب اسلام تھا۔مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ مسلمانوں کو ملک کا غدار کہنے والے سن لیں کہ ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے ہند سے جنت کی خوشبو آتی ہے، نیز یہاں کی اودے ہندی، پان وغیرہ کو آپ ؐ نے پسند کیا۔ اس کے علاوہ خواجہ اجمیریؒ کے خواب میں ہند کے راجستھان کے علاقے کا نقشہ دیکھ کر آپ ؐنے یہاں جانے کا حکم دیا اور دیوبند کی سرزمین پر ایک نشان ڈال کر دارالعلوم کی بنیاد آپ ؐ ہی نے رکھی، جہاں سے آج پوری دنیا سیراب ہورہی ہے۔مولانا نے دوٹوک فرمایا کہ مسلمان اس ملک کا نہ غدار تھا، نہ ہے اور نہ ہی رہے گا۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ اس ملک ہند سے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کافرقہ پرستوں کا خواب صبح قیامت تک پورا نہیں ہوگا!

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading