بسم اللہ الرحمن الرحیم
*ہم آه بھی کرتے ہیں تو ….*
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
از- *محمدضیاءالحق ندوی*
جی ہاں! شعلہ گیر حکومت جب سے دوبارہ اقتدار میں آئی اس وقت سے ہی ہندوستان میں دین اسلام اورمسلمانوں پر الزامات کی بوچھار شروع ہیں ،دین اسلام اور مسلمانوں کوناپیدکرنےکی جوناکام سازش رچی جارہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس وقت کے شعلہ گیر حکومت نے جمہوری ملک ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کےلئے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اوراس کے لئے مختلف بہانہ سے ایڑی چوٹی کازورلگادیاہے کبھی بابری مسجدکا فیصلہ ،کشمیریوں پر ہونے والا بے انتہا مظالم اور کبھی طلاق ثلاثہ بل پاس کرواکر توکبھی این پی آر ،این آر سی اور سی اے اے کے ذریعے سے.
الغرض ہرطرف سے مختلف بہانہ بناکر کھیل رہی ہے اگر اس کے خلاف مسلمان پرامن احتجاج بھی کرتے ہیں تو بھی مسلمانوں کوہی بدنام کیاجارہا ہے جبکہ دشمنان اسلام پولیس محکمہ کے ساتھ مل جل کربھی قتل وغارت گری کابازار گرم کرتے ہیں اور بےقصوروں کوناحق قتل کرکے لاشوں کے انبار لگادیتے ہیں تب بھی کوئی چرچا تک نہیں ہو رہاہے جس نے بھی کہا سچ کہا کہ :
*ہم آہ بھی کرتے ہیں توہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتا*
بہرحال مسلمانوں کوان خطرناک اور پرآشوب دور میں گھبرانے کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہیں ہے تاریخ شاہد ہےکہ مسلمان کبھی بزدل نہیں ہوتا ہے جب بھی حالات آئے انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ یادکیجیے جب نمردو نے دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا پھر بھی انہوں نے ایسے وقت میں نمرود کی طرف دیکھنا پسند نہیں کیااور اللہ کوپکارا تو اللہ کاحکم ہوا "قلنایناركوني برداو سلماعلي ابراهيم "( سورة الانبياء٦٩)ہم نےکہا اےآگ توابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی کاذریعہ بن جا"اتناکہناتھاکہ آگ پھول لڑی اورگل گلزار بن گئ ،اور جب حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا پیچھا ظالم وجابرحکمراں اور ان کےلشکرنےکیا تو موسی علیہ السلام مع اپنی قوم کے بحرقلزم تک پہونچ گئے ایسے موقع پر پیچھےدیکھتے تھے تو فرعونی لشکر نظر آرہا تھا اور آگے دیکھتے تھے تو سمندر حائل ،آگےبڑھتے تو دریامیں غرق ہوجاتے اور پیچھے ہٹتے توقتل کردئیے جاتے لیکن موسی علیہ السلام نے ایسی کٹھن گھڑی میں بھی اللہ کویاد کیا اوران پر توکل کیاتو اللہ تعالی کے حکم سے بحرقلزم میں ایک راستہ بن گیا جن سے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم اطمینان کےساتھ نکل گئے ارشاد باری ہے "فاوحينا الي موسي ان اضرب بعصاك البحر فانفلق فكان كل فرق كالطود العظيم "(سوره الشعراء ٦٣)"پھرحکم بھیجا ہم نےموسی کو کہ مار اپنے عصاسے دریا کو پھردریا پھٹ گیا توہوگئ ہرپھانگ جیسے بڑا پہاڑ "(تفسیرعثمانی )
لہذا ڈرنےاور گھبرانے کی بالکل ضروت نہیں ہے آج بھی اللہ کی طرف سے وہ نصرت ومدد آسکتی ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کو بھڑکتی اور دہکتی ہوئی آگ سے نجات دلائی اورموسی علیہ السلام کووقت کےملعون جابر وظالم حکمراں اور ان کے لاؤلشکر کےچنگل سے نجات دلائی ، دیرہے اندھیر نہیں ابھی شعلہ گیر حکومت پھول رہی ہے،سرکشی اورتکبر میں مگن ہےاور وقت آنے پریہی عناد ان کی ہلاکت و بربادی کاسبب بنےگا اور پھر مرکھپ جائیں گے اور معرکہ احد کے موقع پر جب مجاہدین زخموں سے چور چور تھے ان کے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کےسامنے مثلہ کی ہوئی پڑی تھیں پیغمبر اسلام کوبھی اشقیاء نے مجروح کردیا تھا اور یاس وقنوطیت کےشکار ہورہے تھے،اس ہجوم وشدائد اوریاس و قنوطیت میں اللہ تعالی کا حکم ہوا "ولاتهنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان كنتم مومنين "(سورہ آل عمران. ۱۳۹)"اورسست نہ رہو اورنہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہوگے اگرتم ایمان رکھتے ہو " اور اللہ تعالی کا یہ حکم آیا اور زخم خوردہ مجاہدین کے جوابی حملے کی تاب نہ لاسکے اورسرپر پاؤں رکھ کر میدان سےراہ فرار اختیار کرلی ،اس لئے ضروت اس بات کی ہیکہ ہمارا ایمان بھی ایسا مضبوط ہو اورہم جمال الدین اور رشیدالدین ایرانی کی طرح بےباک اور نڈر بن کر اٹھ کھڑے ہوں جن کی وجہ سے پوری تاتاری قوم اسلام قبول کرلی ،اورپیش آمدہ حوادث و مصائب پر غمگین نہ ہو کیونکہ حوادث ومصائب پر غمگین ہوکر بیٹھ جانا مومن کاشیوہ نہیں.
اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو فتح وکامرانی نصیب فرمائے .آمین یارب العالمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*محمد ضیاء الحق ندوی*
۱۸ اپریل ۲۰۲۰ء