ہمیں عدالتی فیصلہ قبول ہے، اس ہندو-مسلم تنازع کو اب ختم ہو جانا چاہئے: احمد بخاری

نئی دہلی: دہلی میں واقع شاہی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری نے سنیچر کو کہا کہ انہوں نے ایودھیا زمین تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرلیا ہے اور جہاں تک اس فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن (نظرثانی عرضی) دائر کرنے کی بات تو وہ اس سے متفق نہیں۔

احمد بخاری نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ملک میں مسلمان امن چاہتے ہیں اور انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ عدالت عظمی جو بھی فیصلہ دے گی، وہ اسے قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں اور برسوں سے چلے آ رہے ہندومسلم معاملہ کو اب ختم ہوجانا چاہئے۔

انہوں نے فیصلے کے خلاف نظرثانی عرضی دائر کرنے کے سوال پر کہاکہ جہاں تک نظرثانی درخواست دائر کرنے کی بات ہے تو وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے پانچ سو برس سے زیادہ پرانے ایودھیا رام جنم بھومی تنازعہ پر آج تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے پوری 2.77 ایکڑ زمین شری رام جنم بھومی نیاس کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی مناسب مقام پر پانچ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading