ہاتھرس معاملہ میں ملوث افراد کو پھانسی کی سزا دی جائے:  حلقہ خواتین جماعت اسلامی ناندیڑ کا مطالبہ

ناندیڈ (5/اکتوبر) اتر پردیش کے ہاتھرس گاؤں میں والمیکی سماج سے تعلق رکھنے والی پسماندہ ذات کی لڑکی کے ہمراہ 29، ستمبر کے روز اجتماعی عصمت زیزی کرنے کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا – اس معاملہ میں ملوث زیادتی کرنے والے کو فوراً پھانسی کی سزا دی جائے۔ اور متوفی کے خاندان کی ہر ممکن مدد کی جائے- اس طرح کا مطالبہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی ہند ناندیڈ کی جانب سے ناندیڈ کےضلع کلکٹر سے کیا ہے –

محترمہ ملیکہ فردوس صاحبہ اور محترمہ عائشہ پٹھان صاحبہ نے میڈیا سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں جرائم کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے – جس کی ایک مثال پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی اجتماعی عصمت زیزی اور قتل کا معاملہ ہے –

ایک طرف مرکزی حکومت بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دے رہی ہے تو وہی دوسری طرف لڑکیوں پر مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں – اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے – ایسے میں زیادتی کرنے والے پر سخت لگام کسنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔

حلقہ خواتین میڈیا سے خطاب کیا اس کے ساتھ ہی ناندیڑ کے ضلع کلکٹر کو میمورنڈم بھی دیا گیا۔اس موقع پر محترمہ ملیکہ فردوس صاحبہ، محترمہ عائشہ پٹھان صاحبہ، محترمہ ڈاکٹر نسرین صاحبہ، تحسین فاطمہ صاحبہ، محترمہ فرناس بیگم صاحبہ، محترمہ تبسم بیگم صاحبہ، محترمہ احمدی بیگم صاحبہ شامل تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading