’ہاؤسنگ جہاد‘ کا نیا شوشہ یا مسلم ڈویلپرز کے خلاف منظم پروپی گنڈہ؟ سنجے نروپم کے سنگین الزامات، مگر کیا یہ الزامات حقیقت پر مب نی ہیں؟

’ہاؤسنگ جہاد‘ کا نیا شوشہ یا مسلم ڈویلپرز کے خلاف منظم پروپیگنڈہ؟
سنجے نروپم کے سنگین الزامات، مگر کیا یہ الزامات حقیقت پر مبنی ہیں؟

ممبئی (آفتاب شیخ)

شیوسینا کے ڈپٹی لیڈر سنجے نروپم نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ممبئی میں کچھ مسلم ڈویلپرز ’ہاؤسنگ جہاد‘ کے نام پر ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، جوگیشوری کے دو ایس آر اے پروجیکٹس میں ہندو باشندوں کی تعداد کم کرنے اور مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر بسائے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

نروپم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں کی تفصیلی تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ مبینہ بدعنوانیوں کا پردہ فاش ہو۔ تاہم، یہ الزامات کسی ٹھوس ثبوت پر مبنی ہیں یا محض فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی ایک کوشش، یہ ایک اہم سوال ہے۔

الزامات یا حقیقت؟

نروپم کے مطابق، شری شنکر ایس آر اے پروجیکٹ اور اوشیوارا پیراڈائز – 1 اور 2 میں کچھ مسلم ڈویلپرز نے جعلسازی کرکے مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض افراد کے نام پر غیر قانونی طور پر ایک سے زیادہ مکانات درج کیے گئے، جو ایس آر اے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی سیاسی رہنما نے ’ہاؤسنگ جہاد‘ جیسی اصطلاح استعمال کرکے مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کی ہو۔ ماضی میں بھی کچھ عناصر نے ممبئی میں مسلمانوں کی رہائش کو متنازع بنانے کے لیے اس قسم کے بیانات دیے، مگر کوئی بھی الزام قانونی جانچ میں ثابت نہیں ہوسکا۔

سیاسی مفادات یا سچائی کی تلاش؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ سنجے نروپم حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر دوبارہ شیوسینا میں شامل ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ بیانات فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے اور مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کی کوشش ہوسکتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی گھوٹالہ ہوا ہے تو کیا اسے صرف مسلم ڈویلپرز سے جوڑنا درست ہوگا؟ کیا شیوسینا کے زیر انتظام بی ایم سی اور ایس آر اے حکام اس مبینہ بدعنوانی میں شامل نہیں؟

تحقیقات ضروری مگر غیرجانبداری کے ساتھ

اگر واقعی کسی ایس آر اے پروجیکٹ میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو حکومت کو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہیے، مگر اسے ایک مخصوص مذہب سے جوڑ کر فرقہ وارانہ رنگ دینا ناقابل قبول ہے۔ سنجے نروپم کے بیانات کے بعد سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ صرف ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں یا ان کا مقصد واقعی شفافیت لانا ہے؟

سیاست میں فرقہ وارانہ مسائل کو اچھال کر فائدہ اٹھانے کی روایت نئی نہیں، مگر ممبئی جیسے کاسموپولیٹن شہر میں ایسے بیانات کی حقیقت پرکھنا ضروری ہے، تاکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading