امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران وینس نے بتایا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بات چیت میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے۔
قبلاب فیصلہ امریکہ نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں، ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ قالیباف
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کے باعث ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر قالیباف نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت کے دوران ایرانی وفد میں شامل میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہمارے منطق اور اصولوں کے متعلق اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انھوں نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں۔
قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انھوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا انھوں نے ایرانی وفد میں شامل اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’بہت خوب، خدا آپ کو مزید ہمت دے۔‘