گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے

از قلم : مفتی عبدالرزاق بنگلوری

دور موجود میں اسمارٹ فون کی ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے کہ دنیا کا کوئی علاقہ اس کی وبا سے محفوظ نہیں ہے، جہاں اسمارٹ فون کے فوائد سے انکار ممکن نہیں اسی طرح اس کے مضر اثرات کو مانے بغیر بھی چارہ نہیں،بالخصوص اسمارٹ فون کم سن، نابالغ بچوں کے لئے بجائے فائدے کے نقصان ہی نقصان ہے، اگر بچوں سے رابطے کے لیے والدین اسمارٹ فون دلوانا بھی چاہیں تو اس کے لیے لوکل (besic) فون سے بھی وہ ضرورت مکمل کی جاسکتی ہے، درحقیقت بچوں کی یہ عمر تعلیم و تربیت کی ہوتی ہے، اب اسمارٹ فون ایک ایسی بری وبا ہے کہ جس کی وجہ سے کم سن بچے صحیح سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، اور نہ ہی ان کی تربیت کا حق ادا ہو رہا ہے، اور بچے والدین کی نافرمانی پر اتر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اخلاق کو سدھارنا بہت دشوار ہو گیا ہے، اور ان کے اخلاقی پہلو کے بگاڑ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے ہوکر ایک عمر تک پہنچنے کے بعد والدین کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے، اور موبائل فون کو زیادہ وقت استعمال کرنے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں، اور موبائل فون کی لائٹ میں ایک رقم کے ذرات ہوتے ہیں اور دماغ کو بہت جلد اثر انداز کرتے ہیں اسی وجہ سے کبھی بڑے آدمیوں کو بھی زیادہ فون استعمال کرنے کی بنا پر سر میں درد ہونے لگتا ہے، اور آنکھوں کی بینائی بھی کم ہوجاتی ہے جب کہ یقین بچے کو کس کی نظر لگ جاتی ہے، جب کسی کم سن بچے کو بچپن میں اس کی لت لگ جاتی ہے تو پھر اس کا دور کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، ایسے بچوں کو اسمارٹ فون ہاتھ لگ جائے تو پھر نہ کھانے کی فکر نہ اپنی تعلیم کی پرواہ ہوتی ہے، ایسے موقع پر والدین خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہوتے ہیں جس کا انہیں بالفور احساس بھی نہیں ہوتا، ماں باپ بچے کی محبت میں کوئی اسمارٹ فون دلواتے ہیں جب وہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کے مخرب اخلاق کی وجہ سے والدین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پھر وہی شکایت باقی رہ جاتی ہیں کہ ہمارا بچہ بہت نافرمان ہے خود ماں باپ کی نہیں مانتا، اور وہ فجر نہیں پڑھتا اور اس کی چار نمازیں اور رات فون استعمال کرنے کی نظر ہو جاتی ہیں، اسمارٹ فون بچوں کے ہاتھ میں زہر سے بھی زیادہ بدتر ہے، والدین بچوں کی صحیح تربیت نہیں کر پاتے تو یہی بچے بڑے ہو کر ماں باپ کے منہ پر کیچڑ اچھالتے ہیں، ان کو اپنے بچوں کی وجہ سے ہر جگہ رسوا اور ذلیل ہونا پڑتا ہے، یہ بچے بڑے ہو کر بجائے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کے وبال جان بن جاتے ہیں،
علاوہ ازیں اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت کرکے ان کو نیک صالح بناتے ہیں تو یہی لڑکے اپنے والدین کے لئے ان کے اس دارفانی سے رخصت ہونے کے بعد بھی ثواب جاریہ بن جاتے ہیں، مسند احمد کی روایت ہے کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أربعة تجری علیھم اجورھم بعد الموت…… ورجل ترك ولدا صالحا فھو یدعو له (مسند احمد بن حنبل ٢٦٩/٥) وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے اولاد عطاء کیا، اور اس نے اولاد کو ایسی نیک تربیت دی جس سے اولاد نیک صالح عبادت گزار بن جائے، اور اولاد کا تعلق اور لگن اللہ تعالی کے ساتھ ایسا مضبوط ہو جائے کہ وہ ہر وقت رجوع الی اللہ کا عادی بن جائے تو پھر اس کے نیک اعمال کا ثواب والدین کو بھی ملتا رہے گا، بظاہر والدین قبروں میں سو رہے ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کے نیکیوں کے خزانے میں ثواب جمع ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مسلم شریف شریف کی ایک روایت ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :من دل علی خیر فله مثل اجر فاعله (مسلم شریف :حدیث ١٨٩٣) جو بھی بندہ کسی بندے کو خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور وہ اس پر عمل کرتا ہے تو اس رہبری کرنے والے کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا عمل کرنے والے کو ملا تھا، اب غور کرنے کی بات ہے کہ اگر والدین اپنے اولاد کی صحیح راستے کی طرف رہبری کرتے ہیں اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں تو والدین کو بھی عمل کرنے کا ثواب ملتا رہے گا، بالیقین یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب کم سن بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون آتا ہے تو فلم بینی، ناچ گانے اور بے حیائی کے پروگرام کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا، آج کل بچے فون کے متعلق اتنا سب کچھ جانتے ہیں جتنا ان کے والدین بھی نہ جانتے ہوں گے، اسمارٹ فون نے تو بچوں کی زندگی تباہ و برباد کر دیا، ایک قدم آگے بڑھ کر اگر کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنے آپ کو دین دار اور علمائے ربانیین میں سے سمجھتے ہیں ان کے بچوں کا حال بھی بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے، ان کی کھلی وجہ یہی ہے کہ آج ان کے ہاتھوں میں بھی اسمارٹ فون آگیا ہے، والدین کو اپنے بچوں سے محبت ہوتی ضرور ہے مگر محبت میں کوئی آدمی اپنے بچوں کو زہر دینا گوارا نہیں کرتا، مگر افسوس کہ والدین محبت میں اپنے بچوں کو زہر دے رہے ہیں، اگر فون خراب ہو جائے تو والدین کہتے ہیں کہ بچے نے فون خراب کر دیا، اور اگر بچہ خراب ہو جائے تو والدین کہتے ہیں کہ فون نے بچے کو خراب کر دیا، خدارا والدین اپنے گھر کو جنت کا باغ بنائیں نہ کہ جہنم کا گڑھا، مگر افسوس کہ اپنے گھر کو جنت کا باغ بنانے کے بجائے جہنم کا گڑھا بنا دیتے ہیں اور اس کا احساس بھی نہیں ہوتا قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے : یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَاراً (سورہ تحریم) اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اس لئے موجودہ زمانے میں بچوں کی تربیت اور تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے خدا را اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں، اس لئے ان کی صحیح تربیت اور تعلیم کی فکر کرنا والدین کی عین ذمہ داری ہے،

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading