گجرات یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ سینیٹ اور اسٹوڈنٹس ویلفیئر بورڈ کے انتخابات 8 مارچ (اتوار) کو ہوئے تھے جس کا نتیجہ آج این ایس یو آئی کے حق میں برآمد ہوا ہے۔ چار سال کی طویل مدت کے بعد ہوئے اس انتخاب میں بی جے پی کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی کے سامنے ان کے امیدوار بہت پیچھے نظر آئے۔ کل 8 اسٹوڈنٹ سینیٹ سیٹوں پر ہوئے انتخاب میں سے 6 سیٹوں پر این ایس یو آئی نے قبضہ جما لیا ہے۔

اسٹوڈنٹ سینیٹ انتخاب میں این ایس یو آئی کی بہترین کارکردگی کے بعد این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہولی پر مودی جی کے گھر پر چڑھا این ایس یو آئی کا رنگ۔ گجرات یونیورسٹی میں این ایس یو آئی کا پرچم 8 میں سے 6 سینیٹ رکن سیٹوں پر این ایس یو آئی کا قبضہ۔ طلبا نے بی جے پی کے نظریات کو مسترد کر دیا اور متحدہ و منظم ہندوستان والے نظریہ کا انتخاب کیا۔‘‘
#Holi पर मोदी जी के घर पर चढ़ा NSUI का रंग । गुजरात यूनिवर्सिटी में NSUI का परचम 8 में से 6 सेनेट सदस्य सीटों पर @nsui का कब्जा । छात्रों ने बीजेपी की विचारधारा को नकार कर विविधता में एकता वाले संगठित भारत को चुना हैं। #NSUIWinsInGujarat pic.twitter.com/56jyMOQJ5T
— Neeraj Kundan (@Neerajkundan) March 9, 2020
گجرات یونیورسٹی میں ہوئے اس انتخاب میں اس مرتبہ مجموعی طور پر 5 طلبا تنظیموں نے حصہ لیا تھا جن میں اے بی وی پی اور این ایس یو آئی کے علاوہ این سی پی، ایس ایف آئی اور ودیارتھی سینا نے اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا تھا۔ این ایس یو آئی اور اے بی وی پی نے سبھی 8 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جب کہ بقیہ پارٹیوں نے کچھ چنندہ سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو