گجرات کے اسکولوں میں حاضری کا جواب جئے ہند یا جئے بھارت

احمدآباد ۔ یکم جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں بی جے پی حکومت نے تمام اسکولوں سے کہا ہے کہ روز مرہ حاضری کے وقت نام پکارے جانے پر تمام طلبہ روایتی انداز میں ”یس سر“ یا ”جی حاضر“ کے بجائے ’جئے ہند‘ یا ’جئے بھارت‘ کے طور پر جواب کو یقینی بنائیں جس سے وہ (بی جے پی حکومت) یہ محسوس کرتی ہے کہ بچوں میں ’حب الوطنی‘ کا احساس پیدا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام پر تنقید کی ہے اور کہاکہ اس قسم کے احکامات جاری کرنے کے بجائے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ تعلیم کے بگڑتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کام کرے۔ نظامت تحتانوی تعلیم اور گجرات ثانوی و فوقانوی ثانوی تعلیمی بورڈ (جی ایس ایچ ایس ای بی) کی طرف سے پیر (31 ڈسمبر 2018ئ) کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اول تا 12 ویں جماعت کے طلبہ کے علاوہ امدادی و خود امدادی اسکولوں کو چاہئے کہ یکم جنوری سے حاضری کے لئے نام پکارے جانے پر طلبہ کی طرف سے ’جئے ہند‘ یا ’جئے بھارت‘ کے جواب کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نئے عمل کا مقصد طلبہ میں بچپن سے ہی حب الوطنی کے احساس و جذبہ کو فروغ دینا ہے‘۔ گجرات کے وزیر تعلیم بھوپندر سنہہ چاو¿دسمہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے منگل کو کہاکہ حکومت کو کوئی ’اچھی تجویز‘ قبول کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ چاو¿دسمہ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’جئے ہند یا جئے بھارت کہنا ’یس سر‘ کہنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جئے ہند یا جئے بھارت کہنے سے حب الوطنی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں مَیں نے اس تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے‘۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading