نئی دہلی: گارگی کالج میں طالبات کے ساتھ چھیڑخانی کے معاملے میں گرفتار سبھی دس ملزمین کو ساکیت عدالت سے جمعہ کو ضمانت مل گئی۔ عدالت نے تمام ملزمان کو 10-10 ہزار روپے کے مچلکے پر رہا کیا ہے۔ اس سے قبل ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیجا گیا تھا۔ ادھر، اس معاملہ کی دہلی ہائی کورٹ میں 17 فروری کو سماعت ہوگی۔
Delhi: Saket court grants bail to 10 people, who were arrested in connection with the alleged molestation of students during a cultural festival at #GargiCollege, on a bail amount of Rs 10,000 each. Earlier, they were sent to judicial custody by the court.
— ANI (@ANI) February 14, 2020
یہ واقعہ چھ فروری کا ہے جب گارگی کالج کے سالانہ پروگرام کے دوران کچھ لڑکے کالج کا دروازہ توڑ کر زبردستی کالج کے کیمپس میں گھس گئے اور وہاں طالبات کےساتھ چھیڑ خانی کی۔اس معاملے کے طول پکڑنے پر دہلی پولیس نے بدھ کو دس لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکشاف ہوا تھا کہ تمام گرفتار شدگان نے کالج کے گیٹ کو توڑ دیا تھا اور زبردستی کالج میں گھس گئے۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں طالبات کے ساتھ چھیڑ خانی اور بدتمیزی کی۔ گرفتار کئےگئے نوجوانوں کی عمر 18سے 25 برس کے درمیان ہے۔ طالبات نے اس معاملہ کی شکایت 9 فروری کو حوض خاص تھانہ میں درج کرائی تھی۔
ہائی کورٹ میں 17 فروری کو سماعت
گارگی کالج کا معاملہ ہائی کورٹ میں بھی پہنچ گیا ہے اور اس پر وہاں 17 فروری کو سماعت ہونے جا رہی ہے۔ وکیل ایم ایل شرما نے اس حوالہ سے ایک مفاد عامہ عرضی داخل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے۔ عرضی گزار نے دلیل دی ہے کہ ہائی کورٹ میں سماعت میں وقت لگ سکتا ہے ایسے حالات میں الیکٹرانک شواہد کو یا تو ختم ہو سکتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے۔
ایم ایل شرما نے اس سے قبل سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں سرے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد شرما نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو