بڑی خبر! کیا اب اسکول ہفتے میں صرف 3 دن ہی کھلے رہیں گے؟ جانیے کیا ہے نیا تجویز کردہ منصوبہ

ممبئی:26/مئی ۔ (ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر میں اس وقت محسوس کی جا رہی ایندھن کی قلت کے بحران نے اسکولی ٹرانسپورٹ نظام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ نئے تعلیمی سال کی تیاریوں کے دوران ہی ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے والدین اور اسکول انتظامیہ کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اب اسکولوں کے روزمرہ کام کاج پر بھی براہِ راست اثر پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسی پس منظر میں ممبئی کی “اسکول بس اونرز ایسوسی ایشن” (SBOA) نے حکومت کے سامنے ایک چونکا دینے والی تجویز پیش کی ہے۔ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا بوجھ والدین پر نہ پڑے اور بس مالکان و ڈرائیوروں کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے، اس مقصد کے تحت ایسوسی ایشن نے “ایک دن چھوڑ کر اسکول” چلانے کا ماڈل تجویز کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ہفتے میں تین دن طلبہ کو اسکول بلایا جائے جبکہ دو دن آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جائے۔ اس ہائبرڈ نظام سے اسکول بسوں کے چکر کم ہوں گے، ایندھن کی بچت ہوگی اور ٹرانسپورٹ کا خرچ بھی قابو میں رکھا جا سکے گا۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موجودہ ایندھن بحران کے دوران یہ طریقہ عارضی طور پر نافذ کیا گیا تو والدین، اسکول انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ شعبے کو بڑی حد تک راحت مل سکتی ہے۔ تاہم اس تجویز پر حکومت اور تعلیمی اداروں کی جانب سے کیا فیصلہ لیا جاتا ہے، اس پر اب سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

اسکول بس فیس میں اضافے کا بوجھ والدین پر نہ پڑے، اس کے لیے اسکول بس آپریٹرس مسلسل متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ فی الحال بس مالکان انشورنس کی قسطوں، گاڑیوں کی دیکھ بھال، پرمٹ، ملازمین کی تنخواہوں اور مختلف ٹیکسوں کے سبب شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو بس فیس میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔

تاہم “اسکول بس اونرز ایسوسی ایشن” (SBOA) نے واضح کیا ہے کہ وہ والدین اور طلبہ پر کسی بھی قسم کا اضافی مالی بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے۔ اسی لیے فیس بڑھانے کے بجائے اسکولوں کے اوقات اور نظامِ تعلیم میں تبدیلی کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح مشکل حالات میں ہوائی خدمات اور دیگر ٹرانسپورٹ شعبوں کو خصوصی رعایتیں اور سبسڈی فراہم کی جاتی ہیں، اسی طرز پر اسکول بس شعبے کو بھی ڈیزل و پٹرول پر سبسڈی یا دیگر سہولتیں دی جائیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسکول بس آپریٹر روزانہ لاکھوں طلبہ کو محفوظ سفری سہولت فراہم کرتے ہیں، اس لیے اس شعبے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ طلبہ، والدین، اسکول انتظامیہ اور بس آپریٹرز، سبھی کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading