ناندیڑ، 23 مئی (ورقِ تازہ نیوز( سابق وزیراعلیٰ اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اشوک راو چوہان نے کہا ہے کہ جالنہ تا ناندیڑ سمردھی مہامارگ کنیکٹر پروجیکٹ کے تحت ناندیڑ شہر میں سڑکوں کی ترقیاتی کاموں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلائی اوور اور دریائے گوداوری پر نئے پل کی تعمیر بھی شامل ہے، جس سے شہر کو ٹریفک جام کے مسئلہ سے بڑی راحت ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ ناندیڑ ضلع کے سرپرست وزیر تھے، اُس وقت ممبئی-ناگپور “ہندوہردیہ سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے سمردھی مہامارگ” کے توسیعی منصوبے کے طور پر جالنہ-ناندیڑ جوڑ شاہراہ کو منظوری دلائی گئی تھی۔
اس شاہراہ کے ذریعے ناندیڑ، ہنگولی اور پربھنی اضلاع کو سمردھی مہامارگ سے براہِ راست رابطہ حاصل ہوگا، جس سے چھترپتی سمبھاجی نگر، ناسک اور ممبئی جیسے اہم شہروں کے سفر کا وقت کم ہوگا۔ناندیڑ شہر میں ہنگولی گیٹ تا دیگلور ناکہ، گنڈے گاؤں اور وشنوپوری علاقوں میں تین مقامات پر اس منصوبے کا عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ اشوک راؤ چوہان کے مطابق ہنگولی گیٹ، بافنا چوک، دیگلور ناکہ تا چھترپتی چوک اور دھنیگاؤں جنکشن تک 4.48 کلومیٹر طویل چار رویہ فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جبکہ مقامی ٹریفک کے لیے پل کے نیچے علیحدہ سلپ روڈ بھی بنائی جائے گی۔
گوداوری ندی پر موجود 120 سال سے زائد قدیم اور تنگ پل کو ہٹا کر اس کی جگہ ممبئی کے سی-لنک کی طرز پر جدید “کیبل اسٹیڈ” طرز کا خوبصورت اور محفوظ پل تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے ہنگولی گیٹ، بافنا چوک اور دیگلور ناکہ علاقوں میں شدید ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہوگا اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ناندیڑ سکھ مذہب کا مقدس زیارت مقام ہونے کے ساتھ ریاست کا اہم تعلیمی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ اس راستے سے اکولہ، واشم، ہنگولی اور پڑوسی ریاست تلنگانہ کے حیدرآباد، سنگاریڈی اور بچکندہ کی جانب بڑی بین الریاستی اور بھاری ٹریفک گزرتی ہے۔ بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کی وجہ سے موجودہ سڑکوں اور پرانے پل پر کافی بوجھ تھا۔نئے منصوبے سے ٹریفک نظام بہتر ہوگا، سفر کا وقت کم ہوگا اور مذہبی سیاحت کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ ناندیڑ شہر کا یہ ترقیاتی منصوبہ فروری 2028 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔تعمیراتی کام کے دوران بھاری مشینری کی نقل و حرکت اور عوامی حفاظت کے پیش نظر اس راستے کی ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جائے گا، جس کے باعث شہریوں کو کچھ دنوں تک دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم مستقبل کے مضبوط ٹریفک نظام کے لیے عوامی تعاون ضروری قرار دیا گیا ہے۔