نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار اور دیگر 9 کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کی منظوری دینے کے لئے ہفتے کو دہلی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال حکومت بغاوت سے متعلق قانون کو غلط طریقے سے سمجھنے کے معاملے میں مرکزی حکومت سے کم نہیں ہے۔
پی چدمبرم نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’’میں کنہیا کمار اور دیگر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے اور 120 بی کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے دی گئی منظوری سے اتفاق نہیں کرتا۔ دہیل حکومت بغاوت سے متعلق قانون کو غلط انداز سے سمجھنے میں مرکزی حکومت سے کم نہیں ہے۔‘‘
राजद्रोह कानून की अपनी समझ में दिल्ली सरकार भी केंद्र सरकार से कम अनजान नहीं है।
श्री कन्हैया कुमार और अन्य के खिलाफ आईपीसी की धारा 124 ए और 120 बी के तहत मुकदमा चलाने के लिए दी गई मंजूरी को मैं पूरी तरह से अस्वीकृत करता हूं।
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) February 29, 2020
واضح رہے کہ دہلی حکومت نے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کو کنیہا کنہیا کمار اور نو دیگر کے خلاف ملک سے بغاوت کے چار سال پرانے معاملے میں مقدمہ چلانے کے لئے جمعہ کو منظوری دے دی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ’’ہمیں دہلی حکومت کی طرف سے کنہیا کمار اور دوسروں پر ملک سے غداری کا مقدمہ چلانے کی منظوری مل گئی ہے۔‘‘
دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے 19 فروری کو دہلی کے سکریٹری داخلہ کو ایک خط لکھا تھا۔ جس میں جے این یو کے سابق صدر کنہیا کمار سے متعلق جے این یو کے ملک بغاوت کیس میں منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی درخواست کی تھی۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو