
عبید باحسین, پونہ
9420014590
مہاراشٹر میں اسد الدین اویسی نے پرکاش امبیڈکر کے ساتھ لوک سبھا انتخابات کے لئے اتحاد کر ایک نیا سیاسی متبادل مہاراشٹر کی عوام کے لئے فراہم کیا تھا۔ اسی پیش رفت میں 23مسلم کارپوریٹرس اور 20فیصد کے قریب مسلم آبادی والی ناندیڑ کی لوک سبھا نشست پر پرکاش امبیڈکر کی جانب سے سیدھے مالیگائوں یاترا کے میدان میں ہوئی انتخابی میٹنگ میں پروفیسر ےشپال بھنگے کے نام کا اعلان کیا گیا۔اس اعلان کو سنتے ہی موقع پر موجود مجلسی کارکنان ایک دم حیران ہوگئے۔ جس کے بعد انھیں مجلس کے ریاستی قیادت کی جانب سے یہ تیقن دلایا گیا تھا کے عنقریب اورنگ آباد کی لوک سبھا نشست سے مجلس کسی مسلم امیدوار کو موقع دے گی۔ لیکن اچانک سے پرکاش امبیڈکر کی پارٹی کے سوشل میڈیا صفحات پر سے اورنگ آباد کی لوک سبھا نشست کے لئے احمد نگر سے تعلق رکھنے والے اور پونے میں مقیم جسٹس کولسے پاٹل کی امیدواری کا اعلان کیا گیا۔
جس طرح سے ناندیڑ میں ہوا تھا اسی طرح سے یہ سب ماجرا دیکھ مجلس کے کارکنان اور حامیوں میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔ صرف مسلمان ہی نہیں کولسے پاٹل کی امیدورای کے منظر عام پر آتے ہی اورنگ آباد کے دلت طبقے کے نوجوان بھی حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کے اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے مجلسی ممبر آف اسمبلی امتیاز جلیل جو کے سو شل میڈیا ہر کافی سرگرم رہتے ہے ان کی جانب سے اس امیدواری کے اعلان پر 24گھنٹے ہوجانے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں دیا گیا۔ اسد الدین صاحب اس وقت امریکہ کے دورہ پر گئے ہوئے ہیں اور اسی درمیان اورنگ آباد جیسی اہم لوک سبھا نشست کے لئے امیدواری کا اظہار مجلس کی رضا مندی کے بغیر ہوجانے اور امتیاز جلیل کی خاموشی سے بہت سے سوال اٹھنے لازمی ہیں۔ کیا مجلس اور بھاریپ میں نا اتفاقی کی شروعات ہوچکی ہے ؟ کیا مجلس نے اپنے آپ کو لوک سبھا انتخابات سے دورکر لیا ہے ؟
سماجی اور سیاسی فکر رکھنے والے افراد کی نظر میں جس طرح سے پرکاش امبیڈکر کی جانب سے امیدواروں کا اعلان کیا جار ہا ہے اس پر ایک بات بازگشت کر رہی کے کیا ونچت آگھاڑی میں مسلمان مزید ونچیت ہوجائینگے؟ دیکھنا یہ ہوگا کے اس معاملے پر مجلس کی جانب سے عنقریب کیا رد عمل آتا ہے۔