آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور، شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین میں بڑی تبدیلی،دو شادیوں پر سزا ہوگی

گوہاٹی:آسام اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ – یو سی سی) بل منظور کر لیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست میں شادی، لیو اِن ریلیشن شپ، طلاق اور وراثت سمیت کئی معاملات کے قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔

یکساں سول کوڈ کے تحت اگر کوئی شخص دو یا اس سے زیادہ شادیاں کرتا ہوا پایا گیا تو ایسے شخص کو سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنی شادی یا طلاق کی رجسٹریشن 60 دن کے اندر سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں کراتا تو اُس پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

آسام میں ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے حلف لینے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے ہی اسمبلی اجلاس میں یہ بل پیش کیا تھا، جسے اب منظوری بھی مل گئی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت اب ہر شہری کے لیے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، صرف ایک ہی شادی قانونی طور پر لازمی ہوگی۔ اگر کوئی شخص ایک سے زائد شادیاں کرتا ہوا پایا گیا تو اُسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنی شادی یا طلاق کی رجسٹریشن 60 دن کے اندر سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں کراتا تو اُس پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

قانون کے تحت شادی کی عمر بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ مردوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 21 سال جبکہ خواتین کے لیے 18 سال طے کی گئی ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ لیو اِن ریلیشن شپ کی رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی جوڑا رجسٹریشن نہیں کراتا تو اُنہیں تین ماہ تک قید یا 10 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading