اس شدید گرمی کے موسم میں ایک اجیب سی اداسی نے دل میں گھر کر لیا ہے۔ لوک سبھا کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے اور نئی وزرا کونسل بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ معروف شاعر فیض احمد فیضؔ کا ایک شعر ہے:
’ہوتی نہیں جو قوم حق بات پے یکجا، اس قوم کا حاکم ہی فقط اس کی سزا ہے۔‘
آج اپنے ملک کا جو حاکم ہم نے دوبارہ منتخب کر لیا ہے اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ ہم ایک منتشر سماج کا حصہ ہیں!
مجھے 2014 کے بعد سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگوں کے ذہن تقسیم ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے روزانہ کی زندگی میں کم از کم ہم کھل کر بات تو کر سکتے تھے۔ خواہ کوئی کانگریس کا حامی ہو، بی جے پی کا ہو، سماج وادی پارٹی کا یو پھر کسی اور پارٹی کا، ایک دوسرے پر زبانی چہل بازی میں طنز کر کے پھر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن محض پانچ سالوں میں ہی ماحول اتنا تبدیل ہو گیا کہ اب سبزی والے، پرچون والے یا دودھ والے سے بھی بات کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ بھکت (بی جے پی کا کٹر حامی) نہ نکل جائے! ایسا ہوا تو پورا دن بے کار چلا جائے گا۔ وہ ضرور ایسی کوئی بات کرے گا کہ ہم قابو نہیں رکھ پائیں گے اور فضول کی بحث ہوگی۔ یہی سوچ کر اب ارد گرد کے لوگوں سے کھل کر بات نہیں ہو پاتی۔
کچھ روز قبل ایک پرانے دوست نے صرف اتنا کہہ دیا کہ وہ تنہا محسوس کرتے ہیں، ان کے بہت سارے دوست مشتعل ہو گئے اور اپنے سیاسی جماعت کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے۔ میں حیران اس لئے ہوں، کہ پہلے بھی لوگ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے حامی ہو سکتے تھے لیکن ان کی دوستی میں اس کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، مگر اب بات کچھ اور ہے۔
خاندانوں کے درمیان بھی اجیب سی دراڑ پڑ گئی ہے۔ کوئی بر سر اقتدار لوگوں کی تعریفیں کرتا ہے اور کوئی اس درمیان طنز کر دے، خواہ وہ سیاسی ہی کیوں نہ ہو تو آپس میں بول چال بند! پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صرف گھریلو باتوں پر ہی نہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مخالفت میں بھی خاندان کے ارکان کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
میں اداس ہوں، کیوں کہ اس مشتعل اور اندھی حمایت کے میں ہمیشہ سے خلاف رہی ہوں، چاہے وہ کسی شخص کی ہو یا نظریہ کی۔ ہمارے ارد گرد تو ہمیشہ سے ایسا ماحول رہا ہے جس میں بولنے والے، احتجاج کرنے والے، خود کی کمزوریوں پر ہنسنے اور دوسرے سے مذاق کرنے کی پوری آزادی ہو۔ خواہ ہو قومی ترانہ ہو، نہرو گاندھی پر تنقید ہو یا پھر کسی مذہب کا روایات کی کمزوریوں اور خامیوں پر، ہر معاملہ پر ہم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور امید ہے کہ آگے بھی کرتے رہیں گے تمام رکاوٹوں کے باوجود۔ لیکن گزشتہ پانچ سالوں میں یہ کشمکش رہنے لگی ہے کہ کب کیا بولیں، کیا لکھیں، پہلے سوچیں، کہیں سوشل میڈیا پر ٹرول ہو گئے تو! یا گھر پر ہی پتھر برسنے لگیں یا پھر کہیں اسے غداری وطن نہ مان لیا جائے!
کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ غلام ہندوستان میں بھی ایسا ہی ماحول رہا ہوگا۔ غنیمت ہے کہ ہم نے وہ دور نہیں دیکھا، لیکن یہ دور دیکھنا ہی کیا کم تکلیف دہ ہے کہ جب ایک ادنیٰ سی ٹی وی اینکر ’ستی پرتھا‘ کی حمایت کرتی ہے اور راجہ رام موہن رائے جیسے سماجی مصلح پر تنقید کرتی ہے تو اسے سب خامودی سے جھیل لیتے ہیں۔ ہر روز دوسرے مذہب کے لوگوں سے جبراً جے شری رام بلوایا جاتا ہے، رام اور گائے کے نام پر انہیں پیٹا جاتا ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں؟ آخر رام جو ہمارے سب سے امن پسند ’اوتار‘ تھے، دوسرو لوگ جن کے مذہب میں ان کا ذکر نہیں ہے، وہ کیوں ان کا نام لیں؟ یا پھر کسی کو یہ حق کس نے دیا کہ ان کا نام لے کر سڑکوں پر تشدد کرتے پھریں؟
مجھے یاد ہے بچپن میں ہمیشہ گاندھی جی کی تصویر میں نے گھر میں بنے مندروں میں دیکھی اور جب پوچھا کہ یہ کون سے بھگوان ہیں؟ تو پاپا نے بتایا کہ یہ اس لئے بھگوان کے سمان ہیں کیوں کہ انہوں نے ایک سوئے ہوئے سماج میں از سر نو جان پھونک دی۔ آج انہیں کے قاتل کی پوجا کی جاتی ہے، کچھ لوگ ان کے مجسمہ کو چپل مارتے ہوئے فخر سے تصویر کھنچوا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور ہم خاموشی سے یہ دیکھ کر صرف اتنا کہہ پاتے ہیں کہ ان احمقوں کو کون سمجھائے!
ہمارے یہاں ’گندھروا وواہ‘ کی رسم رہی ہے، یعنی اگر مرد اور عورت راضی ہیں، خواہ وہ کسی بھی دھرم یا جاتی سے تعلق رکھتے ہوں تو وہ شادی کر لیتے تھے۔ لیکن آج اگر لڑکا لڑکی اپنے خاندان والوں کو بھی سمجھا بھی لیں تو انہیں ’لو جہاد‘ بریگیڈ سے نمٹنا ہوتا ہے۔ انہیں اتنا پریشان کیا جائے گا کہ لوگ خود کشی کر لیں، یا پھر انہیں مار دیا جائے گا، یہ کس نے سوچا تھا؟
کیا اتنی نفرف، اتنا تشدد ہمارے سماج میں پہلے سے موجود تھے، کیا ہم کبھی اپنے ہی سماج کو سمجھ نہیں پائے؟ بھاری اکثریت سے جیتنے والی نئی حکومت کو جب میں دیکھتی ہوں تو یہ سوال پریشان کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں نے سماج کو اتنا بانٹ دیا، اتنا پُر تشدد کر دیا کہ اب سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ آگے پانچ سالوں میں اور کیا کچھ دیکھنے کو ملے گا۔
کیا اس سب کے درمیان جوجھتے ہوئے کیا ہم اپنے ہی سماج میں خود کو منقطع محسوس کریں گے؟ اتنی بے بسی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن پھر بار بار گر کر اٹھے ہیں، بچے ہیں، آگے بڑھے ہیں۔ اب بھی ہمیں لڑنا تو ہوگا ہی، ورنہ ہم اپنے انسان ہونے کا حق کس طرح ادا کر پائیں گے۔ آزاد ملک کا شہری ہونے کے ناطہ ہمیں ان تمام طاقتوں سے لڑنا ہوگا جو ہمیں دھرم، تاریخ اور انسانیت سے بھی علیحدہ کرنے پر آمادہ ہیں۔
ہم لڑیں گے! بندوق، تلوار اور لاٹھیوں سے نہیں بلکہ محبت، عدم تشدد اور عقیدہ کے ساتھ اور جیتیں گے بھی۔ یہ اداسی کا ایک وقت ہے، روح کو چھلنی کر دینے والی سزا بھی ہے لیکن پھر بھی یہ دور گزر ہی جائے گا۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
