خواجہ یونس کا ’ حراستی قتل ‘ ایک بار پھر اخبارات کی سرخیوں کا موضوع بن گیا ہے ۔ ہوا یہ ہے کہ خواجہ یونس حراستی قتل کے کلیدی ملزم ، معطل پولیس اہلکار ، انکاؤنٹر اسپیشلسٹ سچن وازے نے ممبئی کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست داخل کرکے کہا ہے ، کہ اگر اُسے معاف کر دیا جائے ، تو وہ ایک گواہ کے طور پر سارا سچ سامنے لانے کے لیے تیار ہے ۔ حالانکہ اپنی درخواست میں سچن وازے نے خواجہ یونس کے قتل کا اعتراف نہیں کیا ہے ، بلکہ سرے سے کسی خواجہ یونس کو جاننے سے انکار کیا ہے ، اُس کا کہنا ہے کہ جو شخص اُس کے حوالے کیا گیا تھا ، اُسے نہیں پتہ کہ وہ خواجہ یونس تھا !
سچن وازے کا یہ دعویٰ ہے کہ جو دہشت گرد گرفتار کیے گیے تھے ، ان کے بارے میں بھی اسے کوئی معلومات نہیں تھی ! اُس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں خواجہ یونس کے طور پر جو تصویریں شائع ہوئی ہیں ، وہ شخص جو اُس کے حوالے کیا گیا تھا ، اُن تصویروں سے مختلف تھا ! سچن وازے کے یہ دعوے حیرت انگیز ہیں ، بھلا کوئی پولیس افسر ، اُس شخص کی شناخت سے ، جسے اُس کے حوالے کیا گیا ہو ، کیسے بے خبر رہ سکتا ہے ، یا بے خبر رکھا جا سکتا ہے ؟
کیا بغیر کاغذی کارروائی کے کسی ملزم کو کسی بھی پولیس افسر کے حوالے کیا جا سکتا ہے ؟ خواجہ یونس نے یہ اعتراف تو بہرحال کیا ہے کہ اُسے ایک شخص حوالے کیا گیا تھا جسے اورنگ آباد لے جانا تھا ، اور یہ اعتراف اپنے آپ میں اہم ہے ، کیونکہ پولیس میں یہ ریکارڈ ہے کہ خواجہ یونس کو سچن وازے کے حوالے کیا گیا تھا ۔
اتنا ہی نہیں خواجہ یونس کی ’ لاپتہ ‘ ہونے کی جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے ، اُس میں سچن وازے نے ’ لاپتہ ‘ شخص کا نام خواجہ یونس ہی لکھوایا ہے ۔ لہذا یہ سوال تو اٹھے گا کہ سچن وازے ، خواجہ یونس کے ’ لاپتہ ‘ ہونے کے بعد ، جس کا سی ڈی آئی کی تفتیش کے مطابق ’ حراستی قتل ‘ ہوا تھا ، کیوں بار بار اپنی زبان سے خواجہ یونس کا نام لے رہا تھا ؟ لیکن ایک پہلو مزید ہے ، اگر واقعی سچن وازے کے حوالے جس شخص کو دیا گیا تھا ، وہ کوئی اور تھا ، تو خواجہ یونس کہاں تھا ؟ سچن وازے کی درخواست اس سارے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیتی ہے ، اور کئی سوال سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ، مثلاً اگر سچن وازے کی بات مان لی جائے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ حقیقی خواجہ یونس کو ممبئی پولیس نے سچن وازے کو نہیں سونپا تھا ، تو کیا خواجہ یونس کا کام تمام پہلے ہی ہو گیا تھا ؟ اگر ایسا ہے تو وہ کون تھا جس نے یہ کام کیا تھا ؟ کیا سچن وازے وعدہ معاف گواہ بن کر اسی سچ کو سامنے لانا چاہتا ہے ؟ لیکن سچن وازے کے دعوے پر کوئی کیسے یقین کر سکے گا ؟ معاملہ کوئی ۲۰ سال پُرانا ہے ۔ خواجہ یونس کو ایک مشتبہ کے طور پر ۲۰۰۲ء میں گرفتار کیا گیا تھا ، لیکن ۲۰۰۳ء میں پولیس کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ خواجہ یونس ’ فرار ‘ ہو گیا ہے ۔ کہانی یہ تھی کہ اسے لے کر جو جیپ اورنگ آباد جا رہی تھی ، اُسے حادثہ پیش آ گیا ، اور خواجہ یونس ’ لاپتہ ‘ ہو گیا !
سچن وازے کے ساتھ اس معاملہ میں ۱۴ پولیس اہلکاروں کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی تھی ، لیکن حکومتِ مہاراشٹر نے سچن وازے سمیت صرف چار لوگوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی تھی ، جن میں تین کانسٹبلوں کے نام تھے ، راجیندر تیواری ، راجہ رام نِکم ، اور سنیل دیسائی ۔ سپریم کورٹ میں ایک درخواست سماعت کے لیے پڑی ہوئی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ باقی کے پولیس اہلکاروں کو بھی ملزم بنایا جائے ، اور ان پر بھی مقدمہ چلے ۔ خواجہ یونس ’ حراستی قتل ‘ کے مقدمہ کا ٹرائل بڑی مشکلوں کے بعد جنوری ۲۰۱۸ء میں شروع ہوا تھا ، لیکن ایک گواہ ، ڈاکٹر عبدالمتین ، جو خود ایک ملزم بھی ہے ، کی گواہی کے بعد اس کی سماعت رُک گئی ، اور ہنوز رُکی ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالمتین کی گواہی بہت اہم ہے ، اس نے کہا ہے کہ اس نے چار پولیس والوں کو خواجہ یونس پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اُس کے بعد وہ زندہ نظر نہیں آیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمتین نے اپنی گواہی میں سچن وازے کا نام نہیں لیا تھا ، بلکہ اے سی پی پرفل بھونسلے ، سینئیر انسپکٹر ہیمنت دیسائی ، انسپکٹر راجہ رام واہنمانے اور پولیس انسپکٹر اشوک کھوت کے نام لیے تھے ۔ تو کیا ہے خواجہ یونس کی موت کا سچ ؟ اب سچن وازے کی درخواست کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے ۔ لیکن اس سوال کے ساتھ ایک سوال اور پیوست ہو گیا ہے ، کیا سچن وازے کبھی سچ بول سکے گا ؟ ویسے عدالت اگر چاہے تو یہ ممکن ہے ۔