کیا اب سارا انصاف بلڈوزر سے ہوگا؟ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے مندسور کا ہے جہاں گربا پنڈال میں پتھراؤ کے الزام میں 19 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 3 ملزمان ظفر، رئیس اور سلمان کے گھر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ نے بلڈوزر چلانا شروع کر دیا ہے۔
क्या अब सारे न्याय बुलडोजर के द्वारा किये जायेंगे?
वीडियो मध्यप्रदेश के मंदसौर का है जहाँ गरबा पंडाल पर पत्थरबाजी के आरोप में 19 लोगों पर मामला दर्ज कर 7 को गिरफ्तार किया गया है।
इनमें से तीन आरोपी ज़फर, रईस और सलमान के मकान को अवैध बता प्रशासन ने बुलडोजर चलवा दिया है… pic.twitter.com/wXhp9Z1EzO
— Ashraf Hussain (@AshrafFem) October 4, 2022
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے مندسور میں گربا پنڈال میں پتھراؤ کا الزام سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس الزام میں 19 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہی نہیں 7 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں گرفتار تینوں ملزمان ظفر، رئیس اور سلمان کو انتظامیہ نے بلڈوز سے منہدم کر دیا ہے۔
تینوں کے گھروں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بلڈوزر چلانا شروع کر دیا گیا ہے۔ دراصل سیتاماؤ تھانے کے انچارج دنیش پرجاپتی نے بتایا کہ اتوار کی رات سرجانی گاؤں کے گربا پنڈال میں کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ اس الزام میں ظفر، حفیظ اور رئیس کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان پر کارروائی کرتے ہوئے انتظامیہ نے مکان مسمار کر دیا۔
بلڈوزر کے ذریعے کی گئی کارروائی کے بعد کئی لوگوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا اب ملزمان کو سزا دینے کے لیے قانون اور آئین کی ضرورت نہیں رہی؟ بلڈوزر صرف مسلمانوں کے گھروں پر کیوں چلایا جا رہا ہے؟ سزا کے لیے عدالتی فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلڈوزر کے ذریعے گھر کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
– मध्य प्रदेश के गृह मंत्री कह रहे हैं किसी धर्म का व्यक्ति गरबा में जा सकता हैं।
– उनकी बजरंग दल पुलिस फ़ोर्स कह रही हैं दूसरे धर्म के लोगों का घुसना भी वर्जित हैं। एक दिन कोई नहीं मिल तो राहगीर को ही ID देख कर कूट दिया।विडियो कल रात इंदौर के नंदलालपूरा सब्जी मंडी पंडाल का। pic.twitter.com/7HIf5N5Iln
— काश/if Kakvi (@KashifKakvi) October 3, 2022
بلڈوزر آپریشن کے دوران مندسور، سیتاماؤ اور آس پاس کے علاقوں سے پولیس فورس کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق بائک سے کٹے جانے کے معاملے پر جھگڑا شروع ہوگیا تھا۔ جس کے بعد پتھراؤ اور مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا۔ اس میں 19 لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ معمولی جھگڑوں کو بڑا مسئلہ بناتے ہوئے انتظامیہ نے مسلمانوں کے گھروں پر کارروائی کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ذلیل کرنا، ان پر جھوٹے الزامات لگانا اور دن دیہاڑے ان کے گھروں میں گھسنا کتنا آسان ہے۔
بتادیں کہ شیو لال کی شکایت پر ملزمان کے نام سلمان ولد اکلو، رئیس ولد حبیب الرحمن، جعفر ولد لالہ، سہیل ولد جعفر، شعیب ولد جعفر، گلنواز ولد حافظ، ارمان ولد اعظم، ہارون ولد اعظم خان ہیں۔ ،بھورا ولد اعظم، فردین ولد حمید، کالے ولد محمود، سرفراز ولد ستار، ریحان ولد سراج، ساجد ولد ستار، فیروز ولد حبیب الرحمن، فیجو ولد زاہد اور شہزاد ولد سیدنی سمیت 19 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ معلومات کے مطابق لڑائی میں ہندو فریق نے بھی کیا، لیکن کارروائی ایک طرف ہوئی ہے۔











