
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق خدشات کوئی معمول کی بات نہیں بلکہ اس وبا کے اثرات سے ہر امیر اور غریب ملک کو خطرہ درپیش ہے۔ اس وائرس کیخلاف بڑے طاقت ور ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تن تنہا اس وائرس سے نمٹنا ممکن نہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کئی ممالک کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں یہ کوئی فوجی مشق نہیں بلکہ ایک جنگ ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک کورونا وائرس کو اس کے تیزی سے پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی کے باوجود سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک جنگ ہے جسے کئی ممالک محض ایک روایتی ’فوجی مشق‘ کے طور پر لے رہے ہیں۔
دوسری جانب چین نے گزشتہ روز 139 نئے مریضوں کے سامنے آنے کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک ووہان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد صفر ہوجائے گی اور اس وائرس پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا۔
ادھر امریکا میں کورونا وائرس سے 12 افراد کی ہلاکتوں کے بعد پراسرار وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری طور 8.3 بلین ڈالر کی رقم کی منظوری دیدی گئی ہے جو احتیاطی تدابیر اور علاج و معالجے کے علاوہ اس وائرس کیخلاف ریسرچ میں بھی استعمال ہوگی۔
یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان