جاوید جمال الدین.9867647741
چین میں نومبر اور دسمبر 2019کے دوران پھیلنے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں پھیل ایک خطرناک وباءکی شکل اختیار کرلی ہے۔فی الحال مختلف قسم کے قیاس لگائے جارہے ہیں،لیکن اس بات کا کسی کو علم نہیں ہے کورونا وائرس نے کس ملک اور دنیا کے کس خطے میں جنم لیا ہے،لیکن وہ بغیر کسی وارننگ سے آیا ،اور تیزی سے دنیاکے دیڑھ سوسے زائد ملکوں میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔
چین میں دسمبر کے مہینے میں پہلے معاملے کا انکشاف ہوا ہے اور پھر اس سے تیزی سے اپنے پیر پسار لیے اور آس پاس علاقوںکو متاثر کرنے لگا ،چین میں یووہان نامی شہر کو مکمل طورپر اس وباءکووڈ 19نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جب تک چینی حکام احتیاطی اقدامات کرتے ،اس خطہ کے ہزاروں شہری اس کی لپیٹ میں آکر لقمہ اجل بن چکے تھے اور پھر حکومت چین نے ایسے قدم اٹھائے کے اس وباءکو اس علاقے تک محدودکرکے رکھ دیا ،دنیا نے جب اس کو محسوس کیا تب تک کافی دیر ہوچکی تھی اور یورپ کے اٹلی ،اسپین ،برطانیہ وغیرہ اس کا شکار بن چکے تھے ،امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ بیرون ملک کے دورے سے لوٹ کر واپس اپنے سُپر پاور کہے جانے وطن عزیز پہنچے،تب تک کافی دیر ہوچکی تھی اور آج امریکہ میں اموات کی شرح اٹلی سے کافی ٓگے نکل چکی ہے اور ٹرمپ بوکھلائے ہوئے نظرآرہے ہیں۔
چین کے اس خطہ سے جو خبریں موصول ہوئی ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں،یووہان کی آبادی تقریباً دیڑھ کروڑ ہے اور یہ شہر سب سے زیادہ کورونا وائر سسے متاثر ہوا اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اورلاکھوں متاثر ہوئے ہیں،اس وباءکے پھیلنے کے مختلف اسباب بتائے جارہے ہیں ،لیکن اس کے وباءکی شکل اختیار کرلینے کی وجہ کچھ بھی ہو ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے امریکہ جیسے سپرپاور،برطانیہ جیسے سامراج ،اٹلی ،چین اور ترقی پذیر ہندوستان کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
وطن عزیز میں ممبئی ،دہلی ،پونے ،اترپردیش اورجنوبی ہند کے کئی برے شہر چنئی اور بنگلوربھی اس کے اثر سے بچ نہیں سکے ہیں اور روزانہ یہاں نئے نئے متاثرسامنے آرہے ہیں ،ممبئی ،دہلی اور پونے کا بُرا حال ہے۔دہلی اور اترپردیش کے ساتھ ساتھ بہار،پنجاب اور ہریانہ میں اسے فرقہ و ارانہ رنگ دے دیا گیا ہے اور نیوز چینلز نے اپنی غیر مصداقہ خبروں اور بے لگام زبان کا بھر پور استعمال کیا ہے۔اس صف میں پائے کے صحافی بھی شامل رہے ہیں ،جنہیں کسی بھی غلطی اور برائی کو مسلمانوں کے سرتھوپنے میں بڑا مزہ آتا ہے ،انہیں اس بات کی ذرہ برابرپرواہ نہیں ہوتی ہے کہ ان کی بے سروپیر کی باتوں اور خبروں کے نتیجے میں ملک کی گنگا جمنی تہذہب اور قومی ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچے گی ۔لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ایسا کرنے میں یہ برادری مکمل طورپر کامیابی ہوچکی ہے اور اس کا فائدہ فرقہ پرستوں کو پہنچ رہا ہے اور ارباب اقتدار اور وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب منہ میں انگلی ڈال لی گئی ہے۔شاید وہ اسے اظہار رائے کی آزادی کہہ رہے ہیں اور اس کا کیا کیا جائے کہ لاک ڈاﺅن کے باوجود بھوپال میں شیوارج سنگھ چوہان کی حلف برداری اور یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی کی اجودھیا کے دورے پر نکتہ چینی کرنے والے صحافیوں کو نوٹس دے دیا گیا ہے ،بلکہ یوگی کی پولیس نے تو انگریزی ویب سائٹ کے صحافی کو تو لاک ڈاﺅن کے دوران ہی اجودھیا میں حاضر ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
دوسری طرف مرادآباد میں جو بھی واقعہ پیش آیا ہے ،اسے بڑھاچڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ نے اس بات کی ذرا بھی کوشش نہیں کی کہ یہ ناراضگی ،پہلے تکرار اور پھر تشدد کی شکل کیو ںاختیار کرلی ،غیر جانبدار رہ کر اس بات کا پتہ لگانا چاہئیے تھا کہ کہیں دوسری طرف سے بھی کوئی غلطی نہیں ہوئی ۔خیر دہلی میں کئی علاقوںمیں مسلمانوں کے لیے کالونیوں کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور تبلیغ جماعت کی آڑ میں اس طرح کی افواہوں پھیلائی جارہی ہیں کہ مسلمانوں کی وجہ سے کورونا وائرس کی وباءتیزی سے پھیلی ہے۔حوض قاضی میں سنسان گلیوں میں رات کی تاریکی میں لٹھ لیے ہوئے خواتین کے نکلنے اور مسلمانوں کو دھمکانے کے ویڈیووائرل ہورہے ہیں ،ان ویڈیو میں مسلمانوں کو گلیاں دی جارہی ہیں اور وباءپھیلنے کے لیے انہیں ہی موردالزام ٹہرایا جارہا ہے۔یعنی اسے بیماری کو فرقہ پرستوں نے بھنانے کا پورا بندوبست کرلیا ہے اور وزیراعظم نریندرمودی جب لاک ڈاﺅن کی توسیع مزید 19دن کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں اس بات کی توفیق نہیں ہوتی ہے کہ ایک سطریہ بھی کہہ دیں کہ کورونا وائرس وباءکو مذہب،ذات پات اور فرقوں میں تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں ۔مودی نے نہ ہی ایک مخصوص فرقے کے خلاف پھیلانے منافرت پھیلانے کی روک تھام کے بارے میں کوئی بات کی ۔بلکہ ان کی پارٹی اور ہمنوا تنظیمیں اس کام میں زیادہ مصروف ہیں ۔
ملک میں کورونا وائرس کے سلسلہ میں یہ بتادیا جائے کے ہندوستان کے جملہ 720، اضلاع میں سے 342اضلاع میںابھی تک کرونامرض کاکوئی مریض نہیں پایا گیا ہے۔ 378 اضلاع میں کرونا کے مریض ہیں جن کاعلاج جاری ہے ،ان اضلاع میں 170 اضلاع کوہاٹ اسپاٹ اضلاع کادرجہ اسلئے حاصل ہے کہ یہاں مریضوں کی تعداد روزبہ روز بڑھتی جارہی ہے۔ مہاراشٹر کے شہر ممبئی ،پونا ، ناسک ،اورنگ آباد ،سانگلی ، تھانے ، ناگپور ،ہاٹ اسپاٹ اضلاع قرار دیئے جاچکے ہیں۔ مہاراشٹر میں کرونا مرض سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تین ہزار ہوگئی ہے اور 187افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اور حال کے دوتین دنوں میں ممبئی میں 167 نئے معاملات سامنے آنے سے صورتحال سنگین نوعیت کی ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر کے جملہ 36 اضلاع میں سے صرف 6اضلاع کرونا جیسے مہلک مرض سے محفوظ ہیں۔ بھنڈارا ‘ چندرپور ‘گڑچرولی ‘وردھا ناندیڑاور نندوربار میں اب تک کرونا کاکوئی مریض نہیں ملا ہے۔ اس طر ح ریاست کے باقی ماندہ 30 ،اضلاع میں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں، جن کا علاج کیاجارہا ہے۔ اب تک ریاست میں جملہ 3ہزار کرونا کے مریض پائے گئے ہیں اور ان کی اکثریت کا علاج بخوبی انجام کو پہچنا ہے ۔ممبئی میں سب سے خطرناک یہ ہوئی ہے کہ ایشیاءکی سب سے بڑی پسماندہ اور گندگی بستی دھاراوی کو کورناوائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جس پر وقت رہتے قابو نہیں پایا گیا تو خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں،ممبئی کے نقشے پر نظردوڑائی جائے تو پتہ چلے گا کے متمول علاقے میں یہ وباءزیادہ اثر ڈال رہی ہے مگر دھاراوی کا اس کی لپیٹ میں آنا بہتر نہیں ہے،لیکن اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے بہتر انداز میں کام کررہے ہیں اور ایک بہتر منتظمین ثابت ہوئے ہیں اور خاموشی سے اپناکام انجام دے رہے ہیں،یہیں بات بی جے پی کو گوارا نہیں ہے ،چند روز قبل شمال مغربی ممبئی کے باندرہ علاقے میں جو کچھ ہوا اور دیگر ریاستوں کے مزدوروں کے باندرہ اسٹیشن کے باہر جمع ہونے سے جوافراتفری مچی اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش بی جے پی نے پوری طرح سے کی اور منٹوں میں سابق وزیراعلیٰ فڑنویس ،سابق ایم پی کریٹ سومیا اور مقامی ایم ایل اے اشیش شیلار کے بیانات سامنے آگئے اور ان مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے کی بات کرنے لگے اور اس جھونک میں بھول گئے سورت اور احمدآباد میں بھی 15اپریل کو ایسا ہی مجمع لگ گیا تھا۔ایک دوسری کوشش ایک دونیوز چینلز نے یہ کی کہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جائے کیونکہ باندرہ اسٹیشن سے متصل علاقے کی جامع مسجد واقع ہے اور ٹرسٹیوں نے پولیس کی مدد اس انداز میں کی مسجد لاوڈاسپکر سے مجمع سے اپنے اپنے گھر جانے کی اپیل کی گئی ۔لیکن رنب اور رجت شرما مسلسل مسجد کا ذکر کرتے رہے ۔یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے ،انہیں اس بات کی تشویش نہیں ہے کہ ممبئی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی اور دہلی راجدھانی اگر دونوں میں نفرت کا زہر پھیل گیا تو انجام خطرناک ہوگا اورملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔اورکورونا ممبئی اوردہلی کے لیے خاموش قاتل بن جائے گا۔