ابوظہبی 20 مئی(یو این آئی) کورونا وائرس کی وبا کے بچاؤ کی خاطر فلسطینیوں کے لیے طبی امدادی سامان کی ترسیل کیلئے کل
ابوظہبی سے اتحاد ایئرویز کا ایک طیارہ پہلی مرتبہ(تل ابیب) اسرائیل پہنچا۔
یہ بہر حال اندیشوں کے ماحول میں امکانات کے رخ پر ایک خصوصی پرواز تھا۔ قبل ازیں سعودی عرب سے صدر امریکہ نے راست اسرائیل پرواز کیا تھا۔
واضح رہے کہ عرب ملکوں میں صرف اردن اور مصر نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ باقی خلیجی عرب ممالک میں سے کسی کے بھی اسرائیل کے ساتھ کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور نہ ہی ان ملکوں نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
عرب خطے میں ایران کی کھلی مخالفت بھی بظاہر عرب اسرائیل تعلقات کا دائرہ وسیع کرتی نظر آرہی یے۔
ایران کی وجہ سے چونکہ اس کے حریف خلیجی ملکوں اور اسرائیل کے مابین سیاسی ترجیحات قدرے یکساں نظر آتے ہیں اس لئے اسرائیل اور عربوں میں غیر رسمی رابطوں میں ادھر کچھ عرصے سے گرم جوشی دیکھی گئی ہے۔
میڈیا کی خبروں میں اتحاد ایئرویز کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اتحاد ایئرویز کا منگل 19 مئی کو ابوظہبی سے جو طیارہ تل ابیب پہنچا تھا اس پر صرف عملے کے ارکان موجود تھے جو طبی امداد فلسطینیوں کو مہیا کرنے گئے تھے۔
اس پروازی فیصلے کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کا زیادہ بہتر طور پر مقابلہ کرنا تھا۔