گجرات پولس کے انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے لکھنؤ، اترپردیش میں ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیواری کے پراسرار قتل کے معاملے کو تیزی سے سلجھانے کا دعوی کیا ہے۔ پولس نے سازش رچنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا ہوا تھا اور اس کے بعد منگل کی شام دونوں اہم ملزمان کو بھی راجستھان ۔ گجرات سرحد پر شاملاجی کے قریب گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولس کا دعوی ہے کہ دونوں اہم ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی ہمانشو شکلا نے یو این آئی کو بتایاکہ سورت کے لنبایت کے باشندے میڈیکل ریپریزنٹیٹِو اشفاق ذاکر حسین شیخ (34) اور سورت کے ہی عمرواڑہ کے باشندے ، فوڈ ڈلیوری بوائے معین الدین خورشید پٹھان (27) نے ہی اس قتل کو انجام دیا تھا۔ دونوں کو خفیہ اطلاع اور تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
Gujarat ATS DIG Himanshu Shukla: The two wanted accused Ashfaq and Moinuddin Pathan have been arrested from Gujarat-Rajasthan border near Shamlaji. Gujarat ATS had info that they are going to enter Gujarat, on that basis we moved our team to the border & apprehended them. https://t.co/4rBe0Fx71C pic.twitter.com/1A7FGkSGwZ
— ANI UP (@ANINewsUP) October 22, 2019
گجرات کے اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی ہمانشو شکلا نے بتایا کہ اطلاع ملی تھی کہ کملیش تیواری قتل کیس کے دونوں اہم ملزمان گجرات میں داخل ہونے والے ہیں، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے سرحد پر ٹیم بھیجی گئی اور ان دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ دونوں ملزمان نے رقم ختم ہونے کے بعد اہل خانہ سے رابطہ کیا تھا ، جس کا پتہ اے ٹی ایس کے لگ گیا تھا ، جس کے بعد ٹیم تشکیل دے کر آپریشن کو انجام دیا گیا۔ ڈی آئی جی ہمانشو شکلا کی سربراہی میں پولس سپرنٹنڈنٹ بی پی روجیا، اے سی پی بی ایس چاوڈا اور پولیس کے دیگر عہدیداروں کی ٹیم نے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، 34 سالہ اشفاق ذاکر حسین سورت کے علاقے لمبائات میں گرین ویو اپارٹمنٹ کا رہائشی ہے، جبکہ دوسرا ملزم 27 سالہ معین الدین خورشید بھی سورت کے عمرواڑہ میں لو کاسٹ کالونی کا رہائشی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اشفاق پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ریپریزینٹیٹیو ہے اور معین الدین کھانے کی ڈیلیوری کا کام کرتا ہے۔
قبل ازیں اس معاملے میں گجرات سے گرفتار تین دیگر ملزمان مولانا محسن ، راشد پٹھان اور فیضان کو منگل کے روز زلکھنؤ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے تینوں افراد کو 3 دن کے لئے پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اس معاملے میں ، گجرات اے ٹی ایس اور مہاراشٹر اے ٹی ایس بھی پہلے دن سے ہی یوپی پولس کے ساتھ منسلک تھی۔ ان دونوں اہم ملزموں کی تلاش میں متعدد ٹیمیں مسلسل چھاپے مار رہی تھیں۔
ادھر، کملیش تیواری کی ماں شروع سے ہی یوپی پولس اور گجرات اے ٹی ایس کے دعووں کو مسترد کرتی رہی ہیں۔ قتل کے دوسرے دن اور وزیر اعلی یوگی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی رہنماؤں اور بی جے پی سے وابستہ ایک مافیا پر اپنے بیٹے کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ کملیش تیواری نے قتل سے قبل خود ہی ویڈیو جاری کی تھی اور بی جے پی پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے قتل کی سازش کر رہی ہے۔ کملیش کی والدہ کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے سامنے کچھ بے گناہوں کو پیش کرے گی اور مافیا کو بچائے گی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اکھلیش حکومت میں کملیش تیواری کی حفاظت میں 17 پولیس اہلکار مامور تھے لیکن بی جے پی کی یوگی حکومت میں پہلے ان کی تعداد 8-9 کی گئیی اور پھر محض 4 پولس اہلکار کو حفاظت پر رکھا گیا۔
واضح رہے کہ کملیش تیواری کو 18 اکتوبر کو لکھنؤ میں واقع اس کے گھر پر قتل کیا گیا تھا۔ اس دن مقتول کے ساتھ موجود اس کے معاون سوراشت دیپ سنگھ نے بتایا کہ اس شام کو دونوں ملزمان آئے اور سیدھے پہلی منزل پر چلے گئے وہ اس جگہ سے بخوبی واقف ہوں! وہ تقریبا آدھے گھنٹے تک تیواری سے باتیں کرتے رہے۔ اس دوران، دیپ سنگھ کے سامنے ہی انہوں نے چائے اور ناشتہ کیا۔ اس کے بعد، ان میں سے ایک نے دیپ سنگھ کو سگریٹ لینے کے لئے بھیجا اور جب وہ واپس آیا تو خون آلودہ تیواری فرش پر پڑا ہوا تھا، اس کا گلا کٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے شور مچایا اور تیواری کی اہلیہ کرن اوپر کی طرف بھاگی۔ اس کے بعد ایمبولینس طلب کی گئی، لیکن اسپتال پہنچتے ہی کملیش نے دم توڑ دیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
