کرکٹ عالمی کپ: ہندوستان لوٹتے ہی کوہلی-شاستری پر ہوگی سوالوں کی بارش، لسٹ ہے تیار

کرکٹ عالمی کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹیم انڈیا کی کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرس (سی او اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کوچ روی شاستری اور کپتان وراٹ کوہلی کے انگلینڈ سے لوٹنے کے بعد ان کے ساتھ تجزیہ کرے گی۔ ساتھ ہی ونود رائے کی صدارت والی کمیٹی چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد سے بھی بات چیت کرے گی۔ قابل غور ہے کہ اس کمیٹی میں ونود رائے کے علاوہ ڈائنا ایڈولجی اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ریو تھوڈگے بھی شامل ہیں۔

ونود رائے نے سنگاپور سے پی ٹی آئی سے بات چیت میں کہا تھا کہ ’’کپتان اور کوچ کے بریک سے لوٹنے کے بعد میٹنگ ضرور ہوگی۔ میں تاریخ اور وقت نہیں بتا سکتا لیکن ہم ان سے بات کریں گے۔ ہم سلیکشن کمیٹی سے بھی بات کریں گے۔‘‘

جس طرح کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ شاستری اور کوہلی کو کئی طرح کے سوالوں کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ خاص کر ان سوالوں کے جواب بھی دینے پڑ سکتے ہیں کہ آخر وقت تک عالمی کپ کے لیے امباتی رائیڈو کا سلیکشن طے تھا لیکن اچانک وہ چوتھے نمبر کی دوڑ سے باہر کیسے ہو گئے۔

اس کے علاوہ ٹیم میں تین وکٹ کیپر کیوں تھے؟ خاص کر دنیش کارتک کی کیا ضرورت تھی جو طویل مدت سے فارم میں نہیں تھے۔ کارتک کے علاوہ مہندر سنگھ دھونی اور رشبھ پنت بھی ٹیم میں تھے۔ سیمی فائنل میں مہندر سنگھ دھونی کو ساتویں نمبر پر کیوں اتارا گیا؟ یہ بھی پوچھا جائے گا، اور سوال یہ بھی ہوگا کہ اسسٹنٹ کوچ کے اس فیصلے کی چیف کوچ نے مخالفت کیوں نہیں کی؟

غور طلب ہے کہ معروف کرکٹر سچن تندولکر، سوربھ گانگولی اور وی وی ایس لکشمن سمیت سابق معروف کرکٹروں نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں مہندر سنگھ دھونی کو بلے بازی کے لیے ساتویں نمبر پر بھیجنے کو اسٹریٹجک غلطی قرار دیا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading