چندریان-2 کی کامیاب لانچ کے بعد پورے ملک میں خوشی کا ماحول ہے اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکباد کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ہندوسانی سائنسدانوں کی پوری دنیا میں زبردست تعریف ہو رہی ہے۔ اسی درمیان ہندوستان کے معروف کرکٹر ہر بھجن سنگھ نے چندریان کو لے کر ایسا ٹوئٹ کیا ہے جس سے لوگ بھڑک گئے ہیں اور ان کو ٹرول کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے متنازعہ ٹوئٹ میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے جھنڈے لگا کر لکھا ہے کہ کئی ممالک کے جھنڈوں میں چاند ہوتا ہے اور کئی ملکوں کے جھنڈے چاند پر ہوتے ہیں۔ جب انہوں نے یہ لکھا کہ کئی ممالک کے جھنڈے چاند پر ہوتے ہیں اس میں انہوں نے امریکہ، روس، چین اور ہندوستان کے جھنڈے لگائے۔
Some countries have moon on their flags
??????????????????While some countries having their flags on moon
?? ?? ?? ??#Chandrayaan2theMoon— Harbhajan Turbanator (@harbhajan_singh) July 22, 2019
اپنے ٹوئٹ میں جہاں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ کچھ ممالک کے جھنڈوں میں چاند ہوتا ہے اس میں انہوں نے مسلم ممالک جیسے پاکستان، ترکی، لیبیا، تیونشیا، ازربائیجان، ملائشیا، مالدیپ اور ماریٹینیا کے جھنڈے لگائے ہیں۔ اس پر بہت سے لوگوں نے لکھا کہ ’آپ کھلاڑی نہیں ہیں بلکہ ایک فرقہ پرست انسان ہیں کیونکہ آپ نے صرف ان ممالک کے جھنڈے اپنے ٹوئٹ میں لگائے ہیں جو مسلم ممالک ہیں جبکہ نیپال کے علاوہ کئی ایسے ممالک ہیں جیسے سنگاپور، لاؤس، منگولیا وغیرہ ممالک ہیں جن کے جھنڈوں میں چاند کی تصویر ہے لیکن ان کوجان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے‘۔
Harbhajan Singh, previously guilty of making racial slurs, now flaunts his naked communal side.
Absolutely condemnable. https://t.co/cDPQQkWoDE
— NissimMannathukkaren (@nmannathukkaren) July 23, 2019
I'm getting this tweet in Whatsapp since last few hours. The flags of 9 countries are mentioned (a jibe at those Islamic countries)
Singapore
Laos
Mongolia
Palau
Nepal
ComorosThe above 6 countries too have moon on thier flags. But noone will mention them because 'Its not Kwel' https://t.co/M97fAkTHNW
— Advaid (@Advaidism) July 22, 2019
کھلاڑیوں کو بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں لیکن ہر بھجن نے جس طرح کا ٹوئٹ کیا ہے اس میں فرقہ پرست ذہنیت کی بو آتی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
