کرناٹک کے معروف شاعر اور ناظم مشاعرہ حضرت محب کوثر کا انتقال پُرملال‘تعزیتی نشست کاانعقاد

ناندیڑ:20اگست ۔(ورق تازہ نیوز)آج بتاریخ 20 اگست کو کرناٹک کے معروف کہنہ مشق شاعرو ناظم مشاعرہ محب کوثر کادن کے تین بجے انتقال ہوگیا۔گلبرگہ سے پروفیسر ڈاکٹر غضنفرجاوید نے ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی اور جناب محمدتقی صاحب مدیراعلیٰ ورق تازہ ناندیڑ کوفوون پر اطلاع دی ۔ اس اطلاع کے فوری بعد محمدتقی نے ناندیڑ کے ادبی حلقے کو اطلاع دی ۔ دفترروزنامہ ورق تازہ میں ایک تعزیتی نشست جناب اقبال مجیداللہ کنوینر انجمن ترقی اردو پربھنی کی صدارت میںمنعقد کی گئی۔نشست میں ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی نے کہاکہ جانب محب کوثر ایک کلاسیکی شاعر تھے ۔بحیثیت ناظم مشاعرہ وہ ناندیڑ تشریف لاچکے ہیں۔میرے محسن و مخلص کرم فرماتھے ۔ بحیثیت ناظم مشاعرہ وہ کُل ہند پیمانے پر مشہور تھے ۔ان کے شعری مجموعوں کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی ۔(۱) ایاغِ تازہ (۲)سودوزباں (۳) منظوم سوانح حیات( حضرت بندہ نواز گیسودراز ؒ)(۴) سویرا ۔(۵)ریاست کرناٹک اردو اکیڈیمی نے انھیں اعزازات سے نوازاتھا ۔ اس تعزیتی نشست میں جناب محمدتقی مدیراعلیٰ ورق تازہ ‘ نے اپنی تقریر میں کہاکہ گلشن اردو زباں پرخزاں طاری ہے ۔دیکھتے دیکھتے اردو کے قدآور شعراءادیب اور دانشور ہم سے بچھڑ گئے ۔ آج ہمارے اپنے جان پہچان کے کہنہ مشق شاعر محب کوثر کاانتقال ہوگیا۔،محب کوثر ملک گیر شہرت کے مالک تھے ۔فارسی ‘عربی ‘تیلگو‘اردوزبان پران کوقدرت حاصل تھی ۔شہرناندیڑ میں ان کے قدردانوں کی ایک بڑی تعداد مجوجود ہے ۔خدا مرحومم کو جنت میں جگہ دے ۔ صدرتعزیتی نشست جناب اقبال مجیدا للہ نے کہاکہ محب کوثر کاتعلق ریاست کرناٹک سے تھا لیکن وہ مہاراشٹر میں بھی اپنا مقام رکھتے تھے ۔ناندیڑ ‘ پربھنی‘عثمان آباد ‘ اور اورنگ آباد کے کُل ہند مشاعروں میں ان کومدعو کیاجاتاتھا ۔ وہ ایک کامیاب ناظم مشاعرہ بھی تھے ۔اس تعزیتی نشست میں جناب محمدنقی شاداب نے نظامت کے فرائض انجام دئےے اورشرکائے نشست کاشکریہ ادا کیا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading