منبج،۲۹؍دسمبر (پی ایس آئی)
شام کی سرکاری فوج نے ترکی کی سرحد سے متصل کرد اکثریتی علاقے ‘منبج’ میں داخل ہونے کے بعد وہاں شامی پرچم لہرا دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بشار الاسد کی وفادار فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج منبج میں تمام شہریوں کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔قبل ازیں کرد پروٹیکشن یونٹس کی طرف سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کرد جنگجو منبج سے انخلاء کر رہے ہیں۔ شہر کا کنٹرول اسد رجیم کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسد رجیم کو شہرمیں داخل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔کرد جنگجوئوں نے اسدی فوج سے ترک فوجیوں کے ممکنہ حملے میں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی اس گروپ کو دہشت گرد خیال کرتا ہے۔کرد پروٹیکشن یونٹس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں اور سرحد سمیت علاقے کا کنٹرول شامی فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ منبج کا کنٹرول شامی فوج کو ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دوسری جانب شامی اور روسی فوج کی بھاری نفری پہلے شہر کی سرحد پر جمع ہو گئی تھی۔
الحدیدہ: قیدیوں کے تبادلے میں حوثی باغیوں کا معاہدے سے فرار
الحدیدہ،۲۹؍دسمبر
(پی ایس آئی)
یمن میں الحدیدہ صوبے کے سکریٹری ولید القدیم نے ’’الحدث‘‘ نیوز چینل کو دیے گئے بیان میں باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا قیدیوں سے متعلق دستخط کیے گئے معاہدے پر عمل درامد میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاہدے کا اعلان سویڈن مذاکرات کے ابتدائی دنوں میں کیا گیا تھا۔القدیم کے مطابق باغیوں کی جانب سے اس ٹال مٹول کا مقصد حوثی ملیشیا اور یمنی حکومت کے نمائندوں کی جنرل پیٹرک کیمرٹ کے ساتھ بات چیت کی مدت کو طول دینا ہے۔ کیمرٹ الحدیدہ میں فائر بندی اور وہاں سے حوثی ملیشیا کے انخلا کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ادھر قیدیوں اور گرفتار شدگان کی رہائی سے متعلق یمنی حکومت کی ٹیم کے زرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغی حوثی ملیشیا نے اپنی جیلوں میں اْن تین ہزار کے قریب گرفتار شدگان کی موجودگی سے انکار کر دیا ہے جن کے نام سویڈن میں طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے میں حکومتی وفد کی جانب سے پیش کی جانے والی فہرستوں میں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق باغی ملیشیا گرفتار شدگان کے معاملے میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے تا کہ اس سمجھوتے کو ناکام کیا جا سکے۔یاد رہے کہ الحدیدہ صوبے کے سکریٹری نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ جنرل پیٹرک کیمرٹ الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں سے حوثی ملیشیا کے انخلا کا طریقہ کار پیش کر چکے ہیں جس میں آئندہ منگل تک کی انتہائی مہلت دی گئی ہے۔دوسری جانب الحدث نیوز چینل کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز صنعاء کو الحدیدہ اور تعز سے ملانے والے مشرقی راستے کو کھولنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس راستے کا نام "ہائی وے 16 کلومیٹر” ہے۔دوسری جانب حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر کی شمالی گزر گاہ کو کھولنے یا الحدیدہ کی بندرگاہ سے انخلا سے انکار کر دیا ہے۔ یہ دونوں امور سویڈن معاہدے کی ابتدائی شقوں کے متن میں شامل ہیں۔ الحدیدہ کی بندرگاہوں سے باغیوں کے عدم اںخلا پر اقوام متحدہ کی نگراں ٹیم کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
میں اور عادل الجبیر ایک دوجے کی تکمیل کے لیے ہیں: سعودی وزیر خارجہ
دبئی،۲۹؍دسمبر
(پی ایس آئی)
سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ ابراہیم العسّاف کا کہنا ہے کہ اْن کا ملک کسی بحران سے نہیں بلکہ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو انگریزی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔اکتوبر میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے العساف نے کہا کہ "ضمال خاشقجی کے معاملے نے واقعتا ہم سب کو رنجیدہ کر دیا مگر بالآخر ہم کسی بحران سے نہیں گزر رہے، ہم تبدیلی کا عمل دیکھ رہے ہیں”۔سعودی عرب میں وزراء کے حالیہ رد و بدل کے حوالے سے العساف کا کہنا تھا کہ "عادل الجبیر نے سعودی عرب کی نمائندگی کی اور وہ دنیا بھر میں مملکت کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔ ہم ایک دوجے کو مکمل کرنے والے ہیں”۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کے روز جاری ایک شاہی فرمان میں عادل الجبیر کی جگہ ابراہیم العساف کو وزیر خارجہ مقرر کیا تھا جب کہ عادل الجبیر کو وزیر مملکت برائے خارجہ امور بنا دیا گیا ہے۔مملکت میں 1949 میں پیدا ہونے والے ابراہیم العساف نے 1996 سے 2016 تک بیس برس وزیر خزانہ کے عہدے پر کام کیا۔ انہیں 31 اکتوبر 2016 کو شاہی فرمان کے ذریعے اس عہدے سے سبک دوش کر دیا گیا تھا۔ابراہیم العساف نے 1981 میں امریکا میں کولوراڈو ریاست کی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1971 میں امریکا کی ڈینفر یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز مکمل کیا تھا۔ العساف نے 1968 میں ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی سے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔ابراہم العساف 1971 سے اب تک مملکت میں متعدد اہم سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔
مصر میں سیاحوں کی کوچ پر بم حملہ، دو افراد ہلاک، 12 زخمی
الجیزہ،مصر ،۲۹؍دسمبر
(پی ایس آئی)
مصر کے شہر الجیزہ کے سیاحتی کمپاونڈ میں سیاحوں کی ایک بس میں بم دھماکے کے نتیجے میں دو سیاح ہلاک جبکہ 12 دوسرے زخمی ہو گئے۔’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار نے بتایا کہ دھماکا المریوطیہ شاہراہ میں ایک بم کے ذریعے کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دھماکے میں متعدد افراد ہلاک وزخمی ہوئے۔دھماکے کے فورا بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا شروع کر دیا۔ دھماکا خیز مواد کے ماہرین نے جائے حادثہ کا تفصیلی معائنہ کیا تاکہ ممکنہ طور پر نہ پھٹنے والے دھماکا خیز مواد کا پتا چلایا جا سکے۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق دھماکا خیز مواد جیزہ شہر کی شاہراہ المریوطیہ کی ایک دیوار میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ مواد اس وقت پھٹا جب ویت نام سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی چودہ سیٹر کوچ گذر رہی تھی۔ اس دھماکے کی لپیٹ میں آ کر دو سیاح ہلاک اور دس دوسرے زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کوچ کا مصری ڈرائیور اور سیاحتی کمپنی کا گائیڈ بھی شامل ہے۔بتایا گیا ہے کہ سیاح اہرام مصر کی جانب محو سفر تھے جہاں انھوں نے لائٹ اینڈ ساونڈ ایونٹ میں شرکت کرتا تھی۔ وزیر داخلہ جنرل محمود توفیق اور ان کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔