ایسا بے باک، جرات مند، مہم جو، شعلہ بیان مسلم لیڈر موجودہ دور میں دکھائی نہیں دے رہا ہے، جس نے بندوق کی گولیوں اور تیز دھار ہتھیار کے حملوں کو برداشت کرکے اپنے بدن پر گہرے زخم سہہ کر بھی اپنی قوم کے سوئے ہوئے جذبات، و جمود کو برانگیختہ کرتا رہا ، جس نےاپنی انقلابی تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں سے ڈر،خوف اور دہشت کو نکال کر اس میں نئ روح پھونکنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے،
چیتے کا جگر عقاب کی پرواز رکھنے والا یہ مردِ مجاہد اکبر الدین اویسی کے بلند عزائم کو تو دیکھو!!!
کہ گہرے زخم کھاکر بھی اس کے مضبوط ارادے کبھی متزلزل نہیں ہوئے، اس کی مستقل مزاجی، ثابت قدمی میں ارتعاش پیدا نہیں ہوا،پہلے جس جواں مردی سے حکومت وقت کو للکار تے تھے اور جس بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایوان باطلہ میں لرزہ طاری کر دیتے تھے، گولیاں لگنے کے بعد بھی وہی جارحانہ انداز دیکھنے کو ملا ہے، چند سال قبل جوگیشوری ممبئی میں اکبر الدین اویسی تشریف لائے تھے تو راقم السطور کو قریب سے بیان سننے کا موقع ملا، تو انہوں نے کہا کہ گولیاں لگنے سے پہلے ایک گھنٹہ بولتا تھا اب ماشاءاللہ دو گھنٹے بولتا ہوں، موت و حیات اللہ کے قبضئہ قدرت میں ہے، دشمنوں نے گولیاں مار کر مجھے ختم کرنے کی کوشش کی، مجھے گولیاں لگیں گہرے زخم آئے، لیکن اللہ نے زندگی بخشی آج آپ لوگوں کے سامنے پہلے سے بہتر انداز میں اپنی بات کو پیش کر رہا ہوں، یہ اکبر الدین اویسی کے الفاظ اسٹیج کے قریب سے میں نے سنے تھے،
اس کی زندگی کے سنہرے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے ، اس کی زندگی کے بیشتر ایام کمزور مسلمانوں، دلتوں کو انصاف دلانے اور کمزور طبقوں سے اتحاد کی جدوجہد میں صرف ہو رہے ہیں،
یہ شعر ان پر صادق آتا ہے
کانٹوں میں جو کھلتا ہے شعلوں میں جو پلتا ہے
وہ پھول ہی گلشن کی تاریخ بدلتا ہے
ایسے ملک میں جہاں ہر طرف مخالفت کی فضا قائم ہو، باد خزاں کے جھونکے مسلمانوں دلتوں کے چہرے مرجھادیتے ہوں،جہاں چہار جانب عداوت و منافرت کی آگ لگی ہو، ایسے حالات میں اپنی قیادت اپنی پارٹی کی قابلیت کو اجاگر کرکے لوگوں کے سامنے پیش کرنا، اور وقت کی مکرو فریب والی پارٹیوں سے پنجہ آزمائی کرنا انتہائی مشکل کام ہے، لیکن ہر مشکل حالات میں اپنا راستہ نکال لینا یہ خوبیاں اللہ نے اویسی برادران کو عطا فرمائی ہیں،
مسلمانوں کے مسائل کے لیے ایوانِ پارلیمنٹ میں حکومتِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آئین قانون کے مطابق مدلل طریقے سے دندان شکن جواب دینا اس میں اویسی برادران کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا ہے،
ایسی ہی قوم کے غیور نوجوان کی علامہ اقبال نے کیا خوب منظر کشی کی ہے،
اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی،
ہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولاد،
ناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے،
وہ عالَم مجبور ہے، تُو عالَمِ آزاد،
موجوں کی تپِش کیا ہے، فقط ذوقِ طلب ہے،
پنہاں جو صَدف میں ہے، وہ دولت ہے خدا داد،
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا،
پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد،
خبروں کے مطابق آج وہ شیر جو اغیار کے سامنے کبھی جھکا نہیں کبھی ڈرا نہیں، بستر علالت پر ہے، وجہ بتائی جا رہی ہے جو دشمنوں کے ذریعہ گہرا زخم لگا تھا وہی دوبارہ تکلیف دے رہا ہے،
ایسے وقت میں یقیناً وہ آپ کی راہ دیکھ رہے ہوں گے اور آپ کی دعاؤں کے سخت محتاج ہوں گے، اس سے پہلے بھی حوادث نے ان کو گھیرنے کی کوشش کی تھی لیکن مسلمانوں کی دعائیں ان کے حق میں قبول ہوئی، اور وہ موت کے منہ سے نکل کر واپس آگئے تھے، اس مرتبہ بھی کروڑوں لوگوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ رہی ہیں، خدا کی رحمت سے قوی امید ہے کہ بہت جلد صحت یاب ہو کر قوم کے درمیان جلوہ افروز ہوں گے،
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اکبر الدین اویسی کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور عمر درازی عطا فرمائے آمین
احقر العباد محمد شمیم دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی