اورنگ آباد:(جمیل شیخ): چکل تھانہ علاقہ میں بنائے گئے پروسیسنگ سینٹر پر کچرا ڈالنے کی مخالفت کرنے والے ساکنان کو منانے کی کوششیں کی جارہی ہے اس ضمن میں میونسپل کمشنر نے متعلقہ ساکنان سے ملاقات کی مگر دو گھنٹے کی بات چیت کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔واضح رہے کہ شہر سے نکلنے والے کچرے کو سائنٹگک طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لئے میونسپل انتظایہ نے چکل تھانہ پڑیگائوں ہرسول اور نکشترواڑی میں پروسیسنگ سینٹر لگانے کا منصوبہ بنایا تھا جس کی علاقہ کے ساکنان کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی تھی جنہیں میونسپل انتظامیہ نے یہ یقین دلایا تھا کہ وہاں کچرا جمع نہیں ہونے دیا جائیگا۔ اور وہاں کچرا ڈالے جانیوالے کچرے پر پروسیس کرکے اس سے کھاد تیار کی جائیگی۔ میونسپل انتظامیہ اس بات کا بھی خاص خیال رکھیگی کہ وہاں بنائے جارہے پروسیسنگ سینٹر کے سبب علاقہ میں گندگی نہیں پھیلیگی۔ اور نہ ہی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔
جس کے بعد ان علاقوں کے ساکنان نے مخالفت ختم کردی تھی مگر ۶ ماہ کا ایک لمبا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی میونسپل انتظامیہ نے ان لوگوں سے کیاگیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں پر کچرے کے ٹیلے بن گئے علاقہ میں تعفن پھوٹ پڑا وہاں آوارہ کتوں کی بہتات ہوگئی جس سے زیرزمین پانی بھی آلودہ ہوگیا اور ان کی کھیتی متاثر ہونے لگی ہے۔ لہذا پڑیگائوںکے ساکنان سینٹر کی مخالفت کے سبب دو ماہ قبل یہ پروسیسنگ سینٹر بند ہوگیا اور گزشتہ دو دنوں سے چکل تھانہ علاقہ کے ساکنان کی مخالفت کے سبب وہاں پر کچرے سے لدی گاڑیاں خالی نہیں کی جاسکیں۔ اور ایک بار پھر شہر میں کچرا نکاسی کا مسئلہ سنگین ہونے لگا ہے۔ لہذا میونسپل افسران نے چکل تھانہ کے ساکنان کو منانے کی کوششیں تیز کردیں۔اس ضمن میں ان کی ایک میٹنگ میونسپل کمشنر کی کیبن میں رکھی گئی۔ مگر دو گھنٹوں کی بات چیت کے بعد بھی اب تک یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ مگر میونسپل انتظامیہ کو امید ہے کہ وہ لوگ چکل تھانہ کے ساکنان کو منانے میں کامیاب ہوجائینگے اور جلد ہی یہ مسئلہ حل کرلیا جائیگا۔