امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کا رجحان ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 94.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
تاہم تیل کی قیمتیں 28 فروری کو تنازع کے آغاز سے قبل کی قیمتوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہیں۔ تنازع سے قبل تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 70 ڈالر تھی۔
ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے کو بند کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
بدھ کی صبح ایشیا پیسفک کی بڑی سٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جاپان کے نکی 225 میں پانچ فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 12 ہزار سے زائد پوائںٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ مارکیٹ کا کل آٹھ فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد ٹریدنغ ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی تھی
امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا: اسرائیل
امریکہ اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس تنازع میں شریک اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔
اسرائیل کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔
’اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل، اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔‘
بیان میں کہا گیا یے کہ امریکہ نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔