چنئی: شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کی مخالفت میں رنگولی بنا کر منفرد طریقے سے احتجاج کرنے کے معاملے میں تمل ناڈو کی چھ خواتین سمیت آٹھ افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
Chennai: Police releases the seven persons who were detained earlier today in Besant Nagar over charges of unlawful assembly and for making rangoli against #CitizenshipAmendmentAct, without prior permission. #TamilNadu pic.twitter.com/jcj0hCjFA4
— ANI (@ANI) December 29, 2019
پولیس ذرائع نے بتایا کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں ’سٹيزن اگینسٹ سی اے اے‘ گروپ کے بینر تلے ان خواتین نے رنگولی بنائی تھی۔ رنگولی میں ’’نو ٹو سی اے اے، نو ٹو این آر سی، نو ٹو این پی آر‘‘ نعرے لکھے گئے تھے۔ رنگولی کو دیکھنے وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی جس سے ٹریفک بھی متاثر ہوا۔
اس سے پہلے مظاہرین نے بسنت نگر بس ٹرمینل کے قریب صبح سات سے دس بجے تک رنگولی بنائے جانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ پولیس سے اجازت نہ ملنے کے بعد گروپ کی خواتین بسنت نگر۔4 ایونیو پہنچی اور وہاں رنگولی بنانی شروع کر دی۔ پولیس نے یہاں خواتین کو حراست میں لے لیا، اگرچہ بعد میں انہیں رہا کر دیا۔
اس دوران ڈی ایم صدر ایم کے اسٹالن نے چھ خواتین کو حراست میں لئے جانے کے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حکمران اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت کے بڑھتے زد و کوب کے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ انہوں نے آئین میں درج بنیادی حقوق پر پابندی لگانے کے لئے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف درج کیس واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
