ممبئی،امراوتی کے فسادات میں رضا اکیڈمی کا نام زیر بحث تھانوراتری کے بعد حکومت اس کا اعلان کرسکتی ہیں
ممبئی: مرکزی وزارت داخلہ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس سے متعلق چھ دیگر تنظیموں پر اگلے پانچ سال کے لیے پابندی لگادی ہے ۔ پی ایف آئی پر پابندی کے بعد مہاراشٹر حکومت بھی ایساہی فیصلہ لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ بہت جلدی شندے۔ فڑنویس حکومت مسلمانوں کی ایک اور تنظیم رضا اکیڈمی پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔حکومت بڑی کارروائی کرنے جارہی ہے ۔ اب رضا اکیڈمی پر جلد پابندی لگنے کا امکان ہے ۔ نوراتری کے بعدسی ایم ایکنا تھے شندے اور ڈی پی سی ایم دیوندر فڑنویس اس کا اعلان کر سکتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے اس تنظیم کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔
ٹوئیٹر پر بی جے پی حامی کیا ٹوئیٹ کررہے ہیں
سوشل میڈ یا پر بی جے پی کے حامی ٹوئیٹر پر سرگرم لوگوں نے اس بارے میں ٹویٹ کیا ہے ۔ ایسے لوگ ہیں جو بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے ساتھ ٹویٹ کر رہے ہیں ۔
*Acoording to top sources *Maharashtra government under CM @mieknathshinde Ji & DCM @Dev_Fadnavis Ji is all set to Ban "Raza Academy” once the Navratra festival gets over.— Sameet Thakkar (@thakkar_sameet) September 29, 2022
ایسی ہی ایک ٹویٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ رضا اکیڈمی پر آنے والے وقت میں پابندی لگنے جا رہی ہے ۔سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ بحث اب سیاسی حلقوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بی جے پی کے حامی کا ٹویٹ ، رضا اکیڈی پر کارروائی کا اشارہ ۔ایسا ہی ایک ٹویٹ سومیت ٹھا کر نامی شخص کا بھی ہے۔ انہیں بی جے پی کا حامی سمجھا جا تا ہے ۔ جب مہا وکاس اگھاڑی اقتدار میں تھی ، اس نے سی ایم ادھو ٹھا کرے، وزیر آدتیہ ٹھا کرے اور وز بریتن راوت کے خلاف قابل اعتراض ٹوٹیس کیے تھے۔ جس کی وجہ سے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی گئی۔ پھر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ پھر وہ جیل بھی گیا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے اسے ضمانت دے دی۔
رضا اکیڈمی کیوں بدنام ہے، اس نے کیا کیا؟
رضا اکیڈمی کا آغاز 1978 میں ہوا۔ اس کا آغاز الحاج محمد سعید نوری نامی شخص نے کیا۔ نوری 1986 سے اس تنظیم کی صدر ہیں ۔ امام احمد رضا خان قادری اور دیگرنی علماء کی کتابیں رضا اکیڈمی نے شائع کی ہیں ۔ یہ کتا ہیں اب تک اردو عربی ، ہندی اور انگریزی میں شائع ہو چکی ہیں لیکن رضا اکیڈمی کی بحث اس وجہ سے شروع نہیں ہوئی ۔ممبئی ، امراوتی کے فسادات میں مبینہ رضا اکیڈمی کا نام زیر بحث تھا۔ رضا اکیڈمی نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر 11 اگست 2012 کو آسام میں ہونے والے فسادات اور میانمار میں مسلمانوں پر حملوں کے خلاف ممبئی کے آزاد میدان میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔ اس دوران کافی تشدد ہوا ۔ پولیس اہلکاروں پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔
اس دوران دو افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوۓ ۔ کچھ دن پہلے امراوتی فسادات کے پیچھے رضا اکیڈمی کے ملوث ہونے کی بات بھی پولس کی جانب سے کی گئی ۔ اس کے بعد رضا اکیڈمی نے مشہور موسیقار اے آر رحمان اور ایرانی فلم ساز ماجد مجیدی کے خلاف بھی فتوی جاری کیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ دونوں پیغمبر اسلام کی زندگی پر مبنی فلم بنا رہے تھے ۔رضا اکیڈمی کا کردار دیگر کئی معاملات پر تناز عہ سے بھرا رہا ہے ۔ (بشکریہ TV9)