پیسوں کے تنازع میں مسلم خاتون کاقتلٗ لاش کنوٹ تعلقہ میں پھینکنے کا انکشاف، دو ملزم گرفتار

کنوٹ :16/جنوری(اکرم چوہان): مکر سنکرانتی کے دن کنوٹ تعلقہ کے سارکھنی گھاٹ علاقے میں ملنے والی ایک نامعلوم خاتون کی لاش کے معاملے سے بالآخر پردہ اٹھ گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتولہ تلنگانہ ریاست کے ضلع عادل آباد کی رہنے والی تھی۔ پیسوں کے تنازع میں خاتون کو قتل کر کے اس کی لاش مہاراشٹر کے کنوٹ تعلقہ میں لا کر پھینکنے کا اعتراف دو ملزمین نے کیا ہے، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 14 جنوری کو سندھ کھیڑ پولیس تھانہ حدود میں واقع موضع سارکھنی گھاٹ کے قریب قومی شاہراہ سے متصل جنگلاتی علاقے میں ایک نوجوان خاتون کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ جائے واردات کی صورتحال دیکھ کر پولیس نے ابتدا ہی میں قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ تفتیش کے دوران لاش کی شناخت تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے پِتّلو واڑہ کی رہائشی عمرانہ جبین (عمر 38 سال) کے طور پر ہوئی۔حاصل شدہ معلومات کے مطابق عمرانہ جبین گزشتہ دو ماہ سے اپنی بہن سمینہ یاسمین کے پاس داسناپور (ضلع عادل آباد) میں مقیم تھی۔

تقریباً ایک سال قبل اس نے اندرویلی کے رہائشی محمد فاروق خان کو اپنے نام پر قریب پانچ لاکھ روپے اور سونے کے زیورات رہن رکھ کر مزید چار لاکھ روپے دیے تھے۔ بعد ازاں عمرانہ کا نکاح طے ہونے پر اس نے اپنی رقم واپس مانگی، تاہم فاروق خان ٹال مٹول کرتا رہا۔ 25 نومبر 2025 کو فون پر رقم کا تقاضا کرنے پر صاف انکار کیے جانے سے عمرانہ ذہنی طور پر شدید پریشان ہو گئی۔26 نومبر 2025 کی شام سے عمرانہ کا موبائل فون بند ہو گیا اور جس مکان میں وہ رہ رہی تھی وہ بھی مقفل حالت میں ملا، تاہم اس کی ایکٹیوا دو پہیہ گاڑی گھر کے سامنے کھڑی ہونے سے شبہ مزید گہرا ہو گیا۔ بالآخر ماؤلا پولیس تھانہ میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی۔گمشدگی کے معاملے کی تفتیش کے دوران 14 جنوری 2026 کو ماؤلا پولیس نے محمد فاروق خان اور رمیش کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ دورانِ تفتیش دونوں نے اعتراف کیا کہ 26 نومبر 2025 کی رات وہ موٹر سائیکل پر پِتّلو واڑہ گئے تھے، جہاں پیسوں کے معاملے پر عمرانہ اور فاروق کے درمیان جھگڑا ہوا اور اسی جھگڑے کے دوران عمرانہ کو قتل کر دیا گیا۔

قتل کے بعد محمد فاروق خان نے ایک کار کرائے پر لے کر عمرانہ کی لاش کو عادل آباد سے اچوڑا–سونالا راستے کنوٹ لایا اور سارکھنی گھاٹ کے جنگلاتی علاقے میں سڑک کے کنارے پتھروں اور مٹی سے ڈھانپ کر پھینک دیا۔لاش ملنے کے بعد تلنگانہ کے ماؤلا پولیس، سندھ کھیڑ پولیس، تحصیلدار اور پنچان کی موجودگی میں جائے واردات کا پنچنامہ کیا گیا۔ اس کے بعد رِمز اسپتال، عادل آباد کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے موقع پر ہی پوسٹ مارٹم کر کے تمام قانونی کارروائی مکمل کی۔چونکہ لاش سندھ کھیڑ پولیس تھانہ حدود میں ملی تھی، اس لیے ماؤلا پولیس نے اس معاملے کی مکمل تفصیلات سرکاری خط کے ذریعے سندھ کھیڑ پولیس کو فراہم کی ہیں۔ اس کیس میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے، پولیس نے بتایا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading