پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے مودی حکومت عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے
اگر مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتے تو اقتدار چھوڑ دیں: ہرش وردھن سپکال
11 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل 8 روپے فی لیٹر مہنگا، کیا یہی ’امرت کال‘ہے؟
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کانگریس 26 مئی سے ریاست بھر میں احتجاجی تحریک چلائے گی
ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے پٹرول اور ڈیزل 35 روپے فی لیٹر کرنے کے دعوے کرنے والی بی جے پی حکومت گزشتہ 12 برسوں میں ایندھن کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ 11 دنوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 8 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
ممبئی میں جاری ایک بیان میں سپکال نے کہا کہ ایران جنگ کا بہانہ بنا کر ایندھن کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں، حالانکہ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 38 فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں 62 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ اس دوران ایران یا اسرائیل کی کوئی جنگ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ دراصل عوام کی جیبوں پر براہ راست ڈاکہ ہے اور اگر وزیر اعظم نریندر مودی مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتے تو انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، اس کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 72 روپے فی لیٹر سے اوپر نہیں جانے دی گئیں اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ اس کے برعکس مودی حکومت کے دور میں جب خام تیل کی قیمت 50 سے 55 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی، تب بھی پٹرول تقریباً 100 روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب حکومت ایتھنول ملا کم معیار کا پٹرول 110 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کر رہی ہے۔
سپکال نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکسوں اور ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے عوام سے 43 لاکھ کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ چند دنوں میں صرف 4 روپے فی لیٹر اضافے کے نتیجے میں بھارت پٹرولیم، انڈین آئل کارپوریشن اور ہندوستان پٹرولیم جیسی کمپنیوں نے چند گھنٹوں میں 12,400 کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس کے دور حکومت میں پٹرول کی قیمت ایک یا دو روپے بڑھتی تھی تو بی جے پی کے لیڈر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے تھے، لیکن آج جب قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو وہ خاموش کیوں ہیں؟
ریاست میں پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی کے حوالے سے بی جے پی حکومت کے دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اگر واقعی ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے تو مختلف شہروں اور قصبوں میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں کیوں لگ رہی ہیں؟ انہوں نے بی جے پی لیڈروں کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ عوام ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں، اسی لیے قلت پیدا ہو رہی ہے۔ سپکال کے مطابق یہ بیان حکومت کی ناکامی چھپانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے اعلان کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوام میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ اسی ناراضی کو آواز دینے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کانگریس پارٹی اپنے مختلف شعبوں، سیلوں اور تنظیموں کے ذریعے 26 مئی سے مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت قیمتوں میں اضافہ واپس نہیں لیتی اور عوام کو راحت فراہم نہیں کرتی۔