پونہ:15 جون (آفتاب شیخ)موصولہ اطلاعات کےطابق پونے کے دیہو علاقہ میں اتوار کی سہ پہر اندرایِنی ندی پر قائم ایک پرانا پیدل پل اچانک منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 10 سے 15 افراد کے ندی میں بہہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثہ کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
حادثہ اتوار کی دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے مَاوَل تعلقہ کے کُنڈمالا علاقے میں پیش آیا۔ دیہو علاقہ سنت تُکارام مہاراج کی کارزارعمل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہفتے کے اختتامی دن بڑی تعداد میں زائرین اور سیاح آتے ہیں۔ حادثہ کے وقت بھی بڑی بھیڑ پل پر موجود تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس قدر اچانک پیش آیا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا اور درجنوں افراد ندی میں جا گرے۔
پمپری-چِنچواڑ پولیس کے مطابق اب تک 5 سے 6 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا ہے جبکہ متعدد کی تلاش جاری ہے۔ تلےگاؤں دابھاڑے پولیس، فائر بریگیڈ اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار موقع پر موجود ہیں۔ این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچ چکی ہیں اور کشتیوں کے ذریعے بچاؤ مہم جاری ہے۔
مَاوَل سے رکن اسمبلی سنیل شیلکے نے بتایا کہ اندرایِنی ندی پر بنا یہ لوہے کا پل تقریباً 30 سال پرانا تھا، اور حادثہ کے وقت پل پر تقریباً 100 افراد موجود تھے۔ کچھ لوگ خوش قسمتی سے تیر کر یا کنارے تک پہنچ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔
حادثہ کی اصل وجہ کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے، لیکن ابتدائی طور پر مانا جا رہا ہے کہ پل کی خستہ حالی اور حالیہ بارشوں کے سبب بنیاد کمزور ہو چکی تھی۔ اس سانحہ نے زیارتی اور سیاحتی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کی حالت زار اور متعلقہ محکموں کی لاپرواہی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
این سی پی (شرد پوار گٹ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سُولے نے اس حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک سانحہ ہے۔ ’’میں نے پونے کے کلکٹر سے بات کی ہے اور ریسکیو آپریشن کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مونسون کے موسم میں شہریوں سے محتاط رہنے اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
انتظامیہ نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ریسکیو آپریشن میں پولیس اور امدادی ٹیموں کا مکمل تعاون کریں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔