امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک نیا دور تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد اس امریکی حملے سے شروع ہوا، جس میں ان لانچروں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک غیر روایتی طریقے سے بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہے تھے: یعنی آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ فائر کر کے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے 30 اگست کو اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرۂ لارک پر پاسدارانِ انقلاب کے دو لانچروں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان ٹم ہاکنز کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں ’بحری بارودی سرنگوں سے لیس راکٹ‘ فائر کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ اور جوابی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
امریکی مؤقف کے مطابق جزیرۂ لارک پر موجود ان لانچروں کا مقصد کشتیوں یا بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازاستعمال کیے بغیر خشکی سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں پہنچانا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب اس نوعیت کے نظام کا ایک ماڈل اس سے قبل ایک فوجی مشق میں پیش کر چکی تھی۔ تاہم جزیرۂ لارک پر حملے کے بعد بارودی سرنگیں بچھانے کا یہ نظام دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تنازع کا موضوع بن گیا۔
یہ حملہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس اعلان کے صرف دو دن بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی گزرگاہوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا آپریشن چار ماہ تک جاری رہا اور اس کا بیشتر حصہ رات کے وقت انجام دیا گیا۔ اس کارروائی میں امریکی بحریہ کے غوطہ خوروں کے ساتھ ساتھ روبوٹک کشتیوں اور بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے جون میں تخمینہ لگایا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 80 بارودی سرنگیں موجود تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے آخر میں کہا تھا کہ بین الاقوامی آبی راستوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے، تاہم بحری انٹیلی جنس ادارے اب بھی تیرتی ہوئی یا غیر رجسٹرڈ بارودی سرنگوں کے امکان سے خبردار کر رہے ہیں۔
رینڈ کارپوریشن کے سینئر انجینئر اور بحری بارودی سرنگوں کے ماہر سکاٹ ساوٹز نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے ان کے خاتمے کے مقابلے میں کہیں کم وسائل درکار ہوتے ہیں اور یہ عمل کئی گنا زیادہ تیز ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ’بارودی سرنگیں بچھانے میں چند گھنٹے لگ سکتے ہیں، جبکہ انھیں صاف کرنے میں کئی دن یا کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔‘