پونے میں موظف ڈی آئی جی ایس ایم مشرف کی تصنیف "برہمنسٹس بومبڈ- مسلم ہیانگڈ ” کا رسم اجراء: برہمن اور ہندو تنظیموں کا سخت احتجاج

ہندو تنظیمیں بھی بم دھماکے کرتے ہیں،اس بات کو ہندو قبول کیوں نہیں کرتے?سابق جج ابھئے ٹھپسے کا سوال…

جھلکیاں

  • بالگندھرو رنگ مندر میں جلسہ رسم اجراء ” برہمنسٹس بومبڈ- مسلم ہیانگڈ” کے موقع پر جلسہ گاہ میں شرکت کرنے والے اکھل بھارتیہ برہمن سماج کے صدر آنند دوے کور میوریش ارگڑے کو پولس نے گرفتار کیا پھر انھیں چھوڑ دیا.
  • جلسہ گاہ کے باب االداخلے پر ہندو تنظیموں کی جانب سے کتاب کے مصنف کے مخالف نعرے لگائے گئے.
  • جلسہ گاہ میں شرکت کرنے والے افراد کی پولس نے سخت جانچ کی گئی.

پونے(محمدمسلم کبیر)1993میں فسادات کے بعد جو بم دھماکے کئے گئے وہ مسلمانوں کی جانب سے کئے گئے اس طرح کی تصویر عوام کے سامنے پیش کی گئی لیکن ہندو اس طرح کی حرکات کرتے ہوں گے ایسا کبھی کسی نے محسوس کیا ہے نہ کرے گا.البتہ سن 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکے ہندوؤں کی جانب سے ہوئے جانے کا انکشاف ہوا تو اب ہندو بھی بم دھماکے کرسکتے ہیں اس بات کو کیونکر قبول کیا نہیں جاسکتا?اس سوال کو سابق جج ابھئے ٹھپسے نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق پولس آفیسر کی مرتبہ کتاب میں پیش کردہ بیانات پر بحث و مباحثہ کیا جانا چاہئے اور اگر ان کے پیش کردہ حقائق میں کجی یا یکطرفہ بات ہوتی تو حکومت چاہے تو تحقیقات کے بعد اس کتاب”برہمنسٹس بومبڈ-مسلم ہیانگڈ” پر پابندی لگا سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا.

کل پونے شہر کے بال گندھرو رنگ مندر میں مرظف ڈی آئی جی جناب ایس ایم مشرف کی بم دھماکوں کے حقائق پر مبنی انگریزی تصنیف”برہمنسٹس بومبڈ-مسلم ہیانگڈ” کی رسم اجراء سابق جج ابھئے ٹھپسے کے ہاتھوں عمل میں آئی. اس موقع پر موظف آئی اے ایس آفیسر سدھاکر امبیڈکر، اور ریاست مہاراشٹر کے سابق سیکریٹری رتناکر گائیکواڑ بحیثیت مہمانان خصوصی موجود تھے. جلسئہ رسم اجراء کے موقع پر موظف جج ابھئے ٹھپسے نے اپنے بیان میں سوال کیا کہ ہندو تنظیمیں بھی بم دھماکے کرسکتی ہیں اس بات کو ہندوقبول کیوں نہیں کرتے. ہمیں بھارت کو ہندو راشٹر بنانا ہے تو اس طرح کے پستی میں جانے والے سماج کی ضرورت ہے کیا? اس طرح کا سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے صاف کہا کہ جو ہندو تنظیمیں اس طرح کی حرکات کرتی ہیں وہ تمام ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کرتے. موظف جج نے کہا کہ برہمننسٹ اور برہمن ان دونوں میں بڑا فرق ہے.برہمن ترقی پسند خیالات کے ہوا کرتے تھے.برہمن بائیں بازو کی جماعتوں ، تنظیموں اور مزدوروں کی تنظیموں میں بھی ہوا کرتے ہیں. اگرچیکہ اس کتاب کا نام بظاہر برہمنوں کے خلاف لگتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے.اس کتاب کے مصنف نے اگر کوئی بات غلط بھی لکھ دی ہے تو کیوں اسکو پڑھنے سے عاری سمجھا جائے? جو لکھا گیا ہے اس کی تحقیق کیوں نہ کی جائے? کتاب کو پڑھے بغیر اس کی مخالفت کرنا صریحا غلط بات ہے. سابق جج ابھئے ٹھپسے نے مزید کہا کہ کسی مخصوص طبقے یا قوم کی جانب دیکھنے کا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے. انھوں نے ” پی کے” فلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ سماج غلط ہے اس طرح کا ” رانگ نمبر” دل سے نکالنا چاہئے تبھی تمام طبقات میں یکجہتی اور بہتری کی امید کی جاسکتی ہے.

کتاب کے مصنف سابق آئی جی جناب ایس ایم مشرف نے اپنی بات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ” کئی معاملات میں شکوک و شبہات کی سوئی برہمنسٹس تنظیموں کے اطراف گھومتی رہی مگر ان معاملات میں مسلمانوں کو گرفتار کرکے ان پر معاملات درج کرائے گئے.سن 2006 کے ممبئی لوکل میں بم دھماکے ہوئے اس معاملے میں 13 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا.مگر عدالت نے انھیں اپنی بات رکھنے کا اختیار نہیں دیا.، پونے کے دگڑو سیٹھ علاقے میں ہوئے بم دھماکوں میں ملے تین موبائل فونس دھارواڑ کرناٹک کے شیوراج کلکرنی کے نام تھے لیکن اس کی تفتیش مکمل نہ ہوسکی.جرمن بیکری، نریندر دابھولکر، گوؤند پانسرے کے قتل معاملے کا ملزم سارنگ کلکرنی ہے لیکن اے ٹی ایس ابھی اس کی تلاش سے معذور ہے. اس طرح کا ادعا پیش کرتے ہوئے ایس ایم مشرف نے کہا کہ اپنی اس نئی کتاب میں شہید ہیمنت کرکرے سے قبل اور اس کے بعد رونما ہونے رالے دہشت پسندانہ واقعات کو علیحدہ علیحدہ کیا گیا ہے. انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر میں ہونے والے بم دھماکوں کی آئی بی تفتیش کرتی ہے مگر گمراہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے. اے ٹی ایس اور دیگر جانچ بیوروز آئی بی کی کٹھ پتلیاں بن کر رہ گئی ہیں.

سابق ریاستی سیکریٹری رتناکر گائیکواڑ نے کہا کہ اپنے آپ کو محب ملک گرداننے والوں کو چاہئے کہ وہ ایس ایم مشرف کی کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کریں نہ کہ کتاب کا ٹائٹل دیکھ کر غلط فہمی میں رہیں.انھوں نے کہا کہ سابق آئی جی ایس ایم مشرف کسی بھی فرقے یا مذہب کے مخالف نہیں ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading