پرینکا گاندھی نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی ممبر اسمبلی آکاش وجيہ ورگيہ اور اتر پردیش میں بی جے پی کے رہنما رام شنكر کٹھیریا کا نام لئے بغیر شدید نشانہ لگایا ہے، انہوں نے سوال پوچھا ہے کہ کیا ان جیسے لیڈروں پر کسی طرح کی کارروائی کا کوئی امکان ہے۔
चुनाव जीतकर भाजपा के नेताओं को जनता की सेवा करनी थी मगर वो कर्मचारियों की पिटाई कर रहे हैं। कोई सत्ता की हनक में बल्ले से पीटता है, तो कोई टोल शुल्क माँगने पर फाइरिंग कर लाठी डंडे चलाता है।
क्या इन लोगों पर सख़्त कार्यवाही की सम्भावना है ?https://t.co/BZpUFGx4UO
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) July 7, 2019
غور طلب ہے کہ ہفتہ کے روز یوپی میں اٹاوہ سے بی جے پی کے رہنما رام شنكر کٹھیریا کے سیکورٹی اہکار نے ان کی موجودگی میں ہی ٹول اہلکاروں کو مارا پیٹا گیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی تھی، اس کے علاوہ اندور سے بی جے پی ممبر اسمبلی آکاش وجيہ ورگيہ نے عمارت گرانے پہنچے ایک افسر کی کرکٹ بیٹ سے پٹائی کر دی تھی۔
پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کہا، ’’انتخابات جیتنے کے بعد بی جے پی کے رہنماؤں کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی مگر وہ ملازمین کی پٹائی کر رہے ہیں، کوئی اقتدار کی زعم میں بلے سے پیٹتا ہے، تو کوئی ٹول مانگے جانے پر فائرنگ کر لاٹھی ڈنڈے چلتا ہے، کیا ان لوگوں پر سخت کارروائی کا کوئی امکان ہے‘‘۔
دراصل ہفتہ کو اندرونی آگرہ رنگ روڈ رہن کلا ٹول پلازہ پر بی جے پی رہنما رام شنکر کٹھیریا کے لوگوں نے وی آئی پی انٹری نہ ملنے پر ہنگامہ کر دیا تھا اور ٹول اہلکاروں کی پیٹائی کے ساتھ ہی ہوائی فائرنگ بھی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ رام شنکر کٹھیریا کے قافلے میں ان کی گاڑی کے علاوہ 5 دیگر گاڑیوں کے علاوہ ایک بس شامل تھی۔ ٹول اہلکاروں نے ان گاڑیوں کو وی آئی پی لین کی جگہ عام لین سے نکلنے کو کہا تھا، اسی بات پر رام شنکر کٹھیریا کے سیکورٹی اہلکار کا ٹول اہلکاروں سے تنازعہ ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں میونسپل کارپوریشن کی ٹیم اندور میں جب جر جر ہو چکے مکانوں کو توڑنے کے لئے پہنچی تھی تو بی جے پی ممبر اسمبلی آکاش وجيہ ورگيہ نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دی، بحث کے درمیان ہی آکاش وجیہ ورگیہ نے ایک افسر پر کرکرکٹ بیٹ سے حملہ کر دیا تھا، ان کی اس حرکت کا ویڈیو بھی وائرل ہو گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا، حالانکہ بعد میں انہیں عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
