پربھنی:22اپرےل ( رحمت اللہ خان کے ذریعے) پر بھنی لوک سبھا حلقے سے مہاوی ویکاس اگھاڑی اور شیوسینا (اودھو ٹھاکرے )کے امیدوار سابق رکن پارلیمان سنجے جادو کے انتخابی جلسوں کا سلسلہ جاری ہے اور عوام الناس بڑی تعداد میں اور گروپ میٹنگ میں شرکت کر رہی ہیں پربھنی میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار سنجے جادھو نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں بی جے پی نے اپنی عوام سے جو واضح کیے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔
اس نے بس ایک ہی کام کیا ہے” توڑا‘ پھوڑا‘ اور جوڑا۔ انہوں نے کرونا کے پرآشوب دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک اور ریاست میں کرونا کی بھیانک وبا پھیلی تو حکومت کے خزانے میں اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ وبا کو قابو پا سکتی ہے لیکن کے وزیر اعلی اودھو جی ٹھاکرے نے بدترین حالات کا سامنا کیا ڈٹ کر مقابلے کیا اور وباءپر قابوپا نے میں کامیاب رہے۔
اودھوجی مہاویکاس اگھاڑی کے تائیدی حمایتی وزیر اعلی تھے لیکن بی جے پی اس کی حلیف پارٹیوں میں اودھو جی پر مسلسل نقطہ چینی کرتے رہے۔ شیو سینا کاتوڑ‘شردپوارکوٹارگٹ کیا گیا ان کی پارٹی کو توڑا گیا بس یہی کام بی جے پی کرتی رہی۔ سنجے جادھو نے بھی بی جے پی کے اس نعرے کا مذاق اڑایا جس میں اب کی بار 400 کے پار کرتی رہی۔
اب کی بار 400 کے پا رنہیں بلکہ 200 کے بھی پار نہیں ہوگی ۔ بی جے پی کا خواب لوک سبھا کی 400 سیٹیوں پر کامیاب ہونا ہے۔ 20 اپریل کو منعقدہ اس جلسے کی صدارت راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر شردپوارنے کی۔ شیوسینا(اودھو) کے نوجوان لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے بھی تقریر کی اور پربھنی حلقے کے معزز ووٹر سے سنجے جادھوکو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ اسٹیج پر راجیہ سبھا ممبر فوزیہ خان اورمقامی قائدین تشریف فرماتھے۔