نئی دہلی 22 فروری ۔پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے جہاں ممنوعہ تنظیموں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں تازہ اضافہ ممنوعہ جماعة الدعوہ کا ہوا ہے اور یہ ملک ہندوستان میں ممنوعہ گروپوں کے نصف کی سرپرستی اور مدد کرتا ہے۔ پاکستان کی نیشنل کاو¿نٹر ٹررازم اتھاریٹی نے ابھی تک 69 دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے۔ تاہم ابھی تک اِس نے بڑے عسکری گروپوں کے تعلق سے آنکھیں موند رکھی ہیں جیسے حزب المجاہدین، حرکت المجاہدین اور البدر جو جموں و کشمیر میں سرگرم ہے، سرکاری دستاویز سے یہ بات معلوم ہوئی۔ جمعرات کو پاکستان میں 2008 ءکے ممبئی حملے کے سرغنہ حافظ سعید کی قیادت والی جماعة الدعوہ اور اُس کے خیراتی شعبے فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن پر امتناع عائد کیا۔ جبکہ پلوامہ حملے میں 40 سی آر پی ایف جوانوں کی ہلاکت کے بعد عسکری گروپوں کو قابو میں کرنے کے لئے عالمی دباو¿ بڑھتا جارہا ہے۔ جماعة الدعوہ نیٹ ورک میں 300 درسگاہیں اور مدارس، دواخانے وغیرہ ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق یہ دونوں گروپوں میں تقریباً 50 ہزار وا لینٹرس اور سینکڑوں دیگر تنخواہ یاب ورکرس شامل ہیں۔ این سی پی اے کے مطابق پاکستان کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی تنظیموں کی قابل لحاظ تعداد کا تعلق بلوچستان، گلگیت ۔ بلتستان اور وفاقی زیرانتظام قبائیلی علاقوں سے ہے۔ ہندوستانی وزارت داخلہ کے دستاویزات بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان میں جملہ 41 ممنوع دہشت گرد گروپوں میں سے تقریباً نصف یا تو پاکستان کے ہیں یا اُن کا تعلق پڑوسی ملک سے ہے یا پھر اِن تنظیموں کی سرپرستی پاکستان کرتا ہے۔ اس طرح کے گروپوں میں جیش محمد، لشکر طیبہ، حزب المجاہدین، حرکت المجاہدین، البدر، دختران ملت، ببر خالصہ انٹرنیشنل، خالصتان کمانڈو فورس اور انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن شامل ہیں۔