پاپولر فرنٹ کے مبینہ منصوبے کے متعلق اے این آئی کی کہانی سراسر بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور حد درجہ قابل اعتراض

نئی دہلی (ورق تازہ نیوز)کل شام اے این آئی نیوز ایجنسی کے ذریعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف ایک بدنام کرنے والی خبر شائع کی گئی، جس میں ایک خیالی منصوبے کے متعلق بتایا گیا ہے کہ تنظیم سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالنظیر اور ان کے اہل خانہ کی جان کو خطرہ ہے۔ پاپولر فرنٹ کے جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح نے اس مبینہ الزام کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ تنظیم کی تصویر خراب کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اس طرح کی بہتان تراشی کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اے این آئی کے کسی بھی رپورٹر نے یا ادارتی رکن نے اس قسم کا سنگین الزام شائع کرنے سے قبل ہمارا موقف جاننے کی کوئی کوشش تک نہیں کی اور نہ ہی ہم سے رابطہ کرنے کی زحمت کی۔ گرچہ ہم نے فوری طور پر ایجنسی سے رابطہ کیا، لیکن ایجنسی نے خبر میں ہمارے متعلق کہی گئی جھوٹی باتوں کو اب تک درست نہیں کیا اور نہ ہی ہٹایا۔ دوسری جانب، کچھ دوسرے نیوز پورٹلوں اور اخبارات نے بھی ہمارا موقف جاننے کی کوشش کئے بغیر وہی خبر شائع کر دی۔
خبر میں لکھا ہے کہ ”سرکار کے ساتھ اے این آئی کی بات چیت کے مطابق پی ایف آئی اور دوسری تنظیموں سے جسٹس نظیر اور ان کے اہل خانہ کو لاحق خطرے کے پیش نظر حفاظتی قوتیں اور مقامی پولیس انہیں کرناٹک اور ملک کے دیگر حصوں میں ”فوری طور پر“ ’زیڈ‘ درجے کی سکیورٹی فراہم کریں گی، جیسا کہ حفاظتی ایجنسیوں سے پتہ چلا ہے۔“ چونکہ رپورٹ میں ”سرکار کے ساتھ بات چیت“ میں کسی مخصوص حکومتی ایجنسی یا ذمہ دار کا نام واضح نہیں کیا گیا ہے، اس لئے مکمل طور سے اس خبر کی ذمہ دار اے این آئی ایجنسی اور خبر شائع کرنے والی دوسری میڈیا کو مانا جائے گا۔
محمد علی جناح نے اس الزام کو فوری طور پر واپس لینے اور بلاشرط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خبر شائع کرنے والی میڈیا اس سنگین معاملے میں غیر ذمہ دار ثابت ہوئیں، تو تنظیم مفاد عامہ اور امن و شانتی کے لئے شہری و مجرمانہ دفعات کے تحت قانونی کاروائی کرنے پر مجبور ہوگی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading