پانی پت کی "بابری مسجد” پر فرقہ پرستوں کی بری نظر! مورتی رکھ کر پوجا پاٹ شروع کردی،مگر مسلمانوں نے کوشش ناکام کردی! (ویڈیو)

خالد سیف اللہ صدیقی

پانی پت (ہریانہ) سے میرے دوست نے تازہ ویڈیو بھیجی ہے ، جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ پانی پت کی عظیم ، قدیم ، وسیع و عریض اور تاریخی مسجد "بابری مسجد” میں ہندوؤں نے مورتی وغیرہ رکھ کر پوجا پاٹ شروع کر دیا ہے۔

یہ آج (17/9/2024) بروز منگل کے بارہ بجے کا معاملہ ہے۔ یہ وہی تاریخی مسجد ہے جس کو بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دینے کے بعد یہاں بنوایا تھا۔ وسیع و عریض خطے پر پھیلی یہ ہماری مسجد ہماری عظمت رفتہ کی گواہی دے رہی ہے۔
جب ہندوؤں کی طرف سے یہ حرکت ہوئی ، اور وہاں کے کچھ باغیرت نوجوانوں کو اس کا علم ہوا ، تو وہ فورا آئے ، اور ان ہندوؤں کو روکا ٹوکا ، جس سے باہم تلخی اور سخت کلامی ہوگئی۔‌

پھر نوجوانوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے بھی سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کا ساتھ دیا ، اور ان ہندو پجاریوں کو وہاں سے بھگا دیا۔

یاد پڑتا ہے کہ ایودھیا کی "بابری مسجد” بھی ہمارے ہاتھوں سے اسی طرح نکلی تھی۔ چپکے سے کسی نے مسجد میں مورتی رکھ دی تھی ، اور پھر پوری مسجد اسی قوم کی ہوگئی۔
پانی پت کے مسلمانوں کو ہوش مندی کا ثبوت دینا چاہیے ، اور ایودھیا کی "بابری مسجد” کی طرح اس "بابری مسجد” کو کھونے سے بچنا چاہیے! اس مسجد کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری اقدامات کیے جانے چاہیے ، وہ پانی پت کے مسلمانوں کو جلد از جلد کر لینے چاہیے!

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading