ٹک ٹاک (Tik Tok) ایک بے حیائی فحاشی اور عریانیت

از:( مفتی) عبدالرزاق سلطانی قاسمی

اس ایپ کی بیماری میں دنیا بھر کے اکثر نوجوان ملوث ہیں، 2016 ستمبر کے مہینے میں لانچ ہوا اور اس ٹک ٹوک(tik tok) کو دو سال کے اندر اتنی شہرت حاصل ہوئی جتنی گزشتہ سالوں میں فیس بک(Facebook) کو بھی شہرت حاصل نہیں ہوئی, صرف 2 سال میں پانچ سو ملین اس کے یوزرز ہیں، اور 150 ممالک کے لوگ اس کو استعمال کر رہے ہیں، اور اس ایپ کو لانچ کرنے کا مقصد صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا، اور آپ اس ایپ(app) پر دیکھیں گے کہ سارے مذاہب کا مذاق بنا ہوا ہے, مگر پھر بھی لوگ اس بے حیائی کے سمندر میں غرق ہوتے جا رہے ہیں، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا مذاق بنا رہے ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق اس ایپ (app) کو مسلم قوم زیادہ استعمال کر رہی ہے, اور اس میں سب سے زیادہ تعداد مسلم خواتین کی ہے، مسلم خواتین بن سنور کر ایسے ایسے برہنہ کپڑے پہن کر سامنے آتی ہیں کہ جسکا مذہب اسلام میں دور دور تک بھی شائبہ نہیں پایا جاتا، اور دشمنان اسلام یہی چاہتے ہیں کہ قوم مسلم کو ننگا اور برہنہ کیا جائے، اور ان کو اسلامی تعلیم سے ہٹا کر انہیں گیمس (games) لوڈو (ludo) فیس بک(Facebook) واٹساپ (WhatsApp)اور بے حیائی والے ٹک ٹاک (tik tok) پر لگا دیا جائے, تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت اس میں برباد کریں، اور ان کا منصوبہ ہے کہ جب قوم مسلم تعلیم کے میدان میں خالی نظر آئے گی تو حکومت ہماری رہے گی غلام ہمارے رہیں گے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اعمال صالح میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہوجائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہونگے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا نیز اپنے دین و مذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا(صحیح مسلم)،
آج ہمارا بچہ بچہ نیٹ کے استعمال کو جانتا ہے نیٹ کے استعمال سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے کئی گناہ زیادہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہو رہا ہے، آج ہماری مسلم خواتین گھر میں رہ کر وہ کام کرتی ہیں جو عورتیں بازار میں بھی نہیں کرتیں،آج بنتِ حوا ننگا ناچ رہی ہیں، اور ابن آدم اپنی ہوس بجھانے کے لئے چسکیاں لے لے کر دیکھ رہا ہے، اسلام نے عورت کو ایک نظام دیا ہے، جس میں اس کی بھلائی چھپی ہوئی ہے، اسلام میں عورت کی حفاظت کے خاطر اسے مسجد میں جانے سے روک دیا، اذان اور اقامت سے روک دیا، حج کے دوران اونچی آواز میں تلبیہ کہنے سے روک دیا، تاکہ ان کی آواز غیر محرموں سے محفوظ رہے، اور دل میں ملال پیدا نہ ہو، لیکن جب اسی مذہب کی نو جوان لڑکیاں ٹک ٹاک (tik tok) پر ناچ رہی ہوں تو امت مسلمہ کی بربادی اسی میں مضمر ہے، اور ٹک ٹاک(tik tok) کی بیماری میں صرف لڑکیاں ہی نہیں بلکہ بچہ بچہ اس کا دیوانہ ہے، اور لڑکیوں کے ساتھ اپنا ویڈیو بنا کر لوگوں میں شیئر کرتے ہیں اور اس گناہ کے کام میں لذت محسوس کرتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کے بھی چہرے سامنے آتے ہیں، جو والدین ہیں، بڑے ہیں، اور دین کے جاننے والے ہیں، جب ہمارے رہبر اور رہنما ایسے کاموں میں لگ جائیں تو سمجھ لینا کہ قوم تنزلی کا شکار ہوچکی ہے، رہنماؤں کو تو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف لوگوں کی ہدایت فرمائیں، مگر اب تو ڈاکٹر ہی بیمار ہونے لگے ہیں تو قوم مسلم کا علاج کیسے ہو گا،

آج ہماری قوم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پسند نہیں، ہماری قوم کی بچیوں کو پردہ پسند نہیں، ہمارے نوجوان مسلم لڑکوں کو چہرے پر داڑھی رکھنا پسند نہیں، اگر پسند ہے تو یہودی اسٹائل میں رکھے جانے والے سر کے بال پسند ہیں، یہودی اگر اپنے چہرے پر ڈاڑھی کو فیشن بنا کر رکھتے ہیں تو ہمارا جوان اسی طرح اپنے چہرے پر داڑھی رکھتا ہے، جیسے وہ کپڑے پہنتا ہے ہمارا جوان ان کی اسٹائل والا لباس پہنتا ہے ہماری بچیوں کو نقاب پسند نہیں، وہ نقابوں پردوں کو دقیانوسی خیال کرتے ہیں، اگر یہودی لڑکیاں تنگ وچست لباس پہنتی ہیں تو ہماری بچیاں اسی طرح کا لباس خرید کر پہنتی ہیں مردوں کی طرح لباس اور بال رکھتی ہیں، یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو وجود میں آ رہی ہیں جو اُن بے حیائیوں سے بچ گیا وہ امن پا گیا، اپنے گھر والوں کی حفاظت کیجئے اور سیرت مصطفی پر چلنے کا عادی بنا دیجئے انشاء اللہ کبھی کوئی مصیبت و پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا،

فطرتِ انسانی

اللہ تعالی نے انسان کو جس فطرت اور ساخت اور صلاحیت پر پیدا کیا ہے، وہ اصلی فطرت کبھی بدل نہیں سکتی، جس کو فطرت اسلام کہا جاتا ہے، اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے ضرور کر سکتے ہیں، اس لئے کہ ہر ایک کی فطرت میں اللہ تعالی نے تخم ہدایت ڈال رکھا ہے، اگر گردوپیش کے ہاں وہ ماحول خراب اثرات سے متاثر نہ ہو، اور اس کو اصلی طبیعت اور اصلی ساخت پر چھوڑ دیا جائے تو یقینا دین حق کو اختیار کرسکتا ہے، اور کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو گا اور صحیح حدیث پاک میں تصریح ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد ماں باپ اسے یہودی اور نصرانی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں (بخاری شریف181/1)

گناہ سے کیسے بچیں

اللہ تعالی نے انسان کے اندر دو مادّے پیدا کیے، (1) نیکی کا مادہ (2)گناہ کا مادہ،
جب انسان نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب گناہ کرتا ہےتو اللہ کے عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے، جب ہم دنیا کے حالات کا معائنہ کریں گے تو ایک چیز ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہیں کہ دنیا کے حالات روز افزوں بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو لذت اسی میں محسوس ہوتی ہے، اور لذت کے پیچھے اپنی آخرت کو کھو بیٹھتے ہیں، یاد رکھیں کہ ایک دن ختم ہوجائے گی لیکن گناہ باقی رہ جائے گا، نوجوانوں کی زندگی کا کھلواڑ بہت ساری چیزیں ہو سکتی ہیں، اس میں سے ایک ملٹی میڈیا موبائل اور اس میں بے حیائی اور فحاشی والا ایپ ٹک ٹاک (tik tok) بھی ہے، اس کی بے حیائی اور عریانیت ہمارے سمجھ سے بالا تر ہے، اور اس کو بیان کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت اور محنت درکار ہے، مگر یہ چیز کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے، بلکہ صرف اس طرف اشارہ بھی کافی ہے، ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے اور برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading