اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ہے، ”روس، شام اور ایران صوبہ ادلب میں ہزاروں سویلین کو مار رہے ہیں یا مارنے کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اس سے باز آ جائیں! ترکی خونریزی روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔‘‘
Russia, Syria, and Iran are killing, or on their way to killing, thousands of innocent civilians in Idlib Province. Don’t do it! Turkey is working hard to stop this carnage.
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) December 26, 2019
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شامی اور روسی فورسز نے شام میں باغیوں کے آخری اہم مرکز صوبہ ادلب میں اہداف کو بمباری کا نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔ شامی صدر بشار الاسد نے اس صوبے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
صوبہ ادلب میں کئی ماہ سے جاری آپریشن کے بعد ترکی، روس اور ایران کے رہنماؤں میں انقرہ میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ادلب میں جاری تنازعے کو حل کیا جائے۔ اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر وہاں سے نکل جانے پر مجبور ہوئے تھے۔ تاہم اس اتفاق رائے پر سفارتی کوششوں میں سرد مہری آنے کے بعد سے وہاں صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کلن نے منگل 24 دسمبر کو کہا تھا کہ ماسکو میں ترک وفد سے ملاقات کے بعد روس ادلب میں حملوں کا سلسلہ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
روئٹرز کے مطابق ترکی کی طرف سے اپنی سرحد کے قریب امریکی حمایت یافتہ کُرد ملیشیا کے خلاف فوجی آپریشن اور پھر روسی ساختہ ایس 400 دفاعی میزائل نظام کی خرید کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ قریبی تعلق بنانے کی کوشش میں ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
