ٹرمپ دوحہ پر اسرائیلی حملے سے ناخوش کیوں؟

صدر ٹرمپ دوحہ پر اسرائیلی حملے پر واضح طور پر ناراض اور مایوس ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ ’اس حملے کے ہر پہلو سے بہت ناخوش ہیں۔‘ منگل کی شب واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے قطر پر اسرائیلی حملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا انھوں نے کہا کہ ’میں پوری صورتحال کے سے کوئی خوشی نہیں ہوئی ہے۔

یہ سب اچھا نہیں ہوا لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہم یرغمالیوں کی فوری واپسی چاہتے ہیں۔ تاہم ہم اس سے خوش نہیں جو ہوا ہے اس سے اب تک ہونے والی بات چیت پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں کبھی بھی کسی چیز سے حیران نہیں ہوا ہوں، خاص طور پر جب بات ہو مشرق وسطیٰ کی۔‘ اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کیا تھا نہ کہ انھوں نے اور یہ کہ جب تک ان کی انتظامیہ کو امریکی فوج کی طرف سے حملے کی اطلاع ملتی، بمباری روکنا ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ قطر پر یکطرفہ بمباری کا فیصلہ درست نہیں تھا، قطر امریکہ کا مضبوط اتحادی اور دوست مُلک ہے اور ایسے میں اُس پر حملہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے اہداف کی جانب بڑھنے کے عمل کو نقصان پہنچائے گا۔ صدر ٹرمپ نے قطر کے وزیر اعظم اور امیر دونوں سے بات کی ہے اور انھیں یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین پر اس طرح کا حملہ دوبارہ نہیں ہوگا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading